مہاجرین کو محبت دینا چاہیے، پوپ فرانسس | مہاجرین کا بحران | DW | 17.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو محبت دینا چاہیے، پوپ فرانسس

پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ’نفرت انگیز دہشت گردانہ اعمال‘ کے خاتمے کی خاطر یورپی باشندوں کو مہاجرین کا کھلے دل سے استقبال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محبت سے ہی نفرت کا خاتمہ ممکن ہے۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ’نفرت انگیز دہشت گردانہ اعمال‘ سے بچنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ مہاجرین کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے جائیں۔ ہفتے کی دن اپنے ایک بیان میں پوپ نے مزید کہا، ’’میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ آپ اپنے گھروں اور کمیونٹیوں میں مہاجرین کا استقبال کریں۔‘‘

پوپ فرانس کا کہنا تھا کہ مہمان نوازی اور محبت اس لیے ضروری ہے تاکہ یورپ آنے کے بعد ان کا پہلا تجربہ برا نہ ہو، انہیں اپنی راتیں سرد موسم میں سڑکوں پر نہیں گزارنی چاہییں بلکہ انہیں انسانوں کی طرف سے گرمجوشی ملنا چاہیے۔‘‘

پوپ فرانسس نے شورش زدہ اور غریب ممالک سے مہاجرت کا سفر اختیار کرنے والے افراد کے لیے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وقت یورپ کو مہاجرین کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین یورپ پہنچ چکے ہیں جبکہ یورپی حکومتیں اس بحران کے حل کی کوشش میں مشترکہ و متقفہ حکمت عملی اختیار کرنے کے قابل نہیں ہو سکی ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت نے مہاجرین کے حوالے سے فراخدلانہ پالیسی اختیار کی تھی، جس کی وجہ سے نہ صرف عوام، ان کے سیاسی اتحاد میں شامل سیاستدان بلکہ کئی یورپی رہنما بھی ان سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ تاہم میرکل کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پوپ فرانسس نے مہاجرین کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ محبت اور شقفت سے ہی نفرت اور دہشت گردانہ اعمال کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، ’’افسوسناک بات ہے کہ دنیا بھر میں 65 ملین سے زائد افراد اپنے گھروں سے مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد ہمارے تصورات سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد اٹلی کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔‘‘

پوپ فرانسس کے والد اٹلی سے ہجرت کے لیے ارجنٹائن جا بسے تھے۔ مہاجرین کے اس بحران میں انہوں نے ہمیشہ ہی مہاجرین کی مدد کی تلقین کی ہے۔ رواں برس کے آغاز پر انہوں نے یونان کے ایک مہاجر کیمپ کا دورہ بھی کیا تھا اور واپسی پر مہاجرین کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ دیکھاتے ہوئے وہ بارہ مہاجرین کو اپنے ساتھ اٹلی لے گئے تھے۔

DW.COM