مہاجرین کو سمندر کی نذر ہونے سے ہر حال میں بچایا جائے، پوپ فرانسِس | مہاجرین کا بحران | DW | 16.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کو سمندر کی نذر ہونے سے ہر حال میں بچایا جائے، پوپ فرانسِس

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس نے اتوار کے روز کہا ہے کہ نوجوان تارکین وطن کو سمندر کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

پوپ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب اطالوی کوسٹ گارڈ لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والی ایک کشتی کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اطالوی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی ایک کشتی، جس پر قریب سو افراد سوار تھے، ہفتے کے روز لیبیا کے ساحلی علاقے سے قریب پچاس کلومیٹر دور سمندر میں غرق ہو گئی۔ اس کشتی پر سوار افراد میں سے اب تک صرف چار کو بچایا جا سکا ہے، جب کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بھی صرف آٹھ کی لاشیں برآمد ہو پائی ہیں۔

Mittelmeer Migranten und Flüchtlinge in Schlauchboot (picture-alliance/AP Photo/S. Diab)

ہزاروں تارکین وطن بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کے خطرناک راستے کو استعمال کر رہے ہیں

اتوار کے روز کلیسیا کے ’ورلڈ ڈے‘ کے موقع پر دعائیہ عبادات کی قیادت کرتے ہوئے پوپ فرانسِس نے کہا، ’’ہمارے نوجوان بھائی جو اپنا گھر بار چھوڑ کر بے شمار خطرات سے مقابلہ کرتے ہیں، ان کی زندگی کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔‘‘

پوپ کا کہنا تھا، ’’ہمیں ہر ممکن قدم اٹھا کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ نوجوان تارکین وطن محفوظ ہیں اور انہیں انضمام کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ بحیرہء روم کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے تنہا بچوں کی تعداد پھچلے برس قریب 26 ہزار رہی۔ یہ تعداد سن 2015ء کے مقابلے میں دوگنی تھی۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ نابالغ افراد اگر اس خوف ناک سفر میں کامیاب ہو کر اٹلی پہنچ بھی جائیں، تو بھی انسانوں کے اسمگلروں کے ہاتھوں انہیں کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سن 2016ء بحیرہء روم میں حادثات اور ہلاکتوں کے اعتبار سے بدترین سال رہا۔ سن 2015ء میں اس سمندری راستے میں قریب 38 سو افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم گزشتہ برس یہ تعداد پانچ ہزار سے بھی زائد تھی۔