مہاجرین کا بحران: یورپ کے خاتمے کا آغاز؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 18.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران: یورپ کے خاتمے کا آغاز؟

فرض کریں یورپی یونین کی سب سے بڑی طاقت اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دینے والا جرمنی اپنی سیاسی بقا کی خاطر تارکین وطن پر اپنے دروازے بند کر دے اور پھر۔۔۔ یورو ختم کر کے دوبارہ جرمن مارک کو کرنسی بنا لے۔

یہ محض افسانوی خیال نہیں ہے بلکہ حالیہ عرصے کے دوران برلن اور برسلز میں اعلیٰ سطح پر پایا جانے والا حقیقی خوف ہے جس کی جھلک جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر کے حالیہ بیانات میں دکھائی دیتی ہے۔ میرکل، جنہیں مہاجرین دوست پالیسی کی وجہ سے نہ صرف اپنے مخالفین بلکہ اتحادیوں کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا ہے، کا کہنا ہے کہ یورو کرنسی کا مستقبل مہاجرین کے بحران کو حل کرنے سے وابستہ ہے۔

دوسری جانب ینکر بھی خبردار کر چکے ہیں کہ یورپ کے پاس اب آخری موقع ہے۔ اگرچہ ینکر کو اب بھی امید ہے کہ یورپ کی موجودہ صورت حال اس کے ’خاتمے کا آغاز‘ نہیں ہے۔

جرمنی کا انتباہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو اپنے قدامت پسند اتحادیوں کی جانب سے زیادہ تر مسلمان ممالک سے جرمنی آنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

میرکل کے قریب سمجھے جانے والے تجربہ کار وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو ڈھکے چھپے لفظوں میں بڑی بامعنی دھمکی دی۔ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ کے دوران شوئبلے کا کہنا تھا، ’’کافی لوگوں کے خیال میں مہاجرین کا مسئلہ جرمنی کا مسئلہ ہے۔ لیکن جب ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں، جس کی جرمنی سے توقع کی جاتی ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جرمنی کا نہیں بلکہ یورپی یونین کا مسئلہ ہے۔‘‘

شینگن زون ختم ہونے کا خطرہ

میرکل اور ینکر کی رائے میں یورپ کے آزاد سفری معاہدے یا شینگن زون میں شامل ممالک کی جانب سے بارڈر کنٹرول کرنے سے یورپی مارکیٹ اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ینکر کا ایک حالیہ بیان میں کہنا تھا، ’’شینگن زون کے بغیر یورو کرنسی کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘‘

میرکل نے ابھی تک ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ برلن حکومت بھی آسٹریا اور ڈنمارک کی طرح غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے بارڈر کنٹرول سخت کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن میرکل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بارڈر کنٹرول سے یورپ کو نقصان ہو گا۔ گزشتہ ہفتے میرکل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب تک ایک ملک سے دوسرے ملک میں بلا روک ٹوک جایا نہ جا سکے تو مشترکہ کرنسی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

جرمن سیاست دان نجی گفتگو میں اور بھی کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ایک سینئر سیاست دان کے مطابق، ’’ہمارے پاس مارچ یا زیادہ سے زیادہ موسم گرما تک مسائل حل کرنے کے لیے وقت ہے۔ بصورت دیگر شینگن زون ختم ہو جائے گا۔‘‘

امید کی کرن: ترکی

اگرچہ یورپی رہنما ایردوآن کو ایک آمر کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے وہ ترک صدر رجب طيب ايردوآن سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جرمنی کی کوشش ہے کہ مہاجرین کے بحران کو حل کرنے میں ترکی کی مدد کو یقینی بنانے کے لیے یورپی یونین ان تین بلین یورو کے علاوہ بھی ترکی کو اضافہ مالی امداد فراہم کرے۔ تاہم اٹلی جرمنی کی اس تجویز کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کچھ جرمنوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ جرمنی تارکین وطن کو روکنے کے بدلے یورپی یونین کے بجائے اپنے فنڈ سے ہی ترکی کو پیسے فراہم کرے۔

اگرچہ یورپی یونین کو ترکی سے کافی امیدیں ہیں تاہم مہاجرین کی آمد سخت سرد موسم کے باوجود بھی مسلسل جاری ہے۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس اَوراموپولوس کا کہنا ہے کہ ’پُر امید‘ رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔