مہاجرین کا بحران اور ’یورپ میں دہشت گردی کا خوف‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 12.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران اور ’یورپ میں دہشت گردی کا خوف‘

ایک تازہ سروے کے نتائج کے مطابق یورپی عوام کو خطرہ لاحق ہے کہ مہاجرین کے بحران کے باعث ان کے ممالک میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اسی طرح یہ یورپی ملازمتوں کے حوالے سے بھی بے یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک تازہ سروے کے نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ مہاجرین کی یورپ آنے کی وجہ سے بہت سے یورپی باشندے اس خطرے کا شکار ہوئے ہیں کہ دہشت گردی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

DW.COM

دس یورپی ممالک میں کرائے گئے اس سروے کے نتائج کے مطابق بہت سے یورپی باشندوں کا یہ خیال بھی ہے کہ ترک وطن کر کے ان کے ممالک پہنچنے والے تارکین وطن اور مہاجرین ان کی ملازمتوں کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں جبکہ وہ اس پیشرفت کو ایک اقتصادی بوجھ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

یہ سروے جن دس ممالک میں کرایا گیا، ان میں سے آٹھ ممالک کے نصف یا نصف سے بھی زائد باشندوں کا خیال ہے کہ اس بحران کے باعث ان کے ممالک میں دہشت گردی کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ہنگری میں سب سے زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ مہاجرین کا بحران ان کے ملک میں دہشت گردی میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس ملک میں 76 فیصد رائے دہندگان نے اس خیال کا اظہار کیا۔ پولینڈ میں 71 فیصد شہریوں جبکہ جرمنی اور ہالینڈ کے 61 فیصد باشندوں نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اسی طرح ان دس ممالک میں سے پانچ ممالک میں نصف یا اس سے بھی زائد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ مہاجرین ان کے ممالک میں آ کر ان کی ملازمتیں اور سماجی مراعات چھین لیں گے۔ یہ خدشہ بھی سب سے زیادہ ہنگری میں نوٹ کیا گیا ہے، جہاں 81 فیصد عوام نے اس سوال کے جواب میں ’ہاں‘ کہا کہ آیا مہاجرین ان کی ملازمتوں کے لیے خطرہ ہیں؟

دیگر یورپی ممالک میں پولینڈ میں 75 فیصد، یونان میں 72 فیصد اور اٹلی میں 65 فیصد شہریوں نے بھی کہا کہ مہاجرین کی آمد ان کی ملازمتوں اور سماجی مراعات کے لیے خطرہ ہے۔

واشنگٹن میں قائم Pew ریسرچ سینٹر نے یہ سروے چار اپریل اور بارہ مئی کے دوران کرایا۔ بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر گیارہ ہزار پانچ سو افراد نے اس سروے میں حصہ لیا۔ اس سینٹر نے بتایا کہ مہاجرین کے بحران کی وجہ سے یورپ میں پہلے سے رہائش پذیر مسلمانوں کے بارے میں بھی کچھ یورپی باشندوں کے خیالات پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

Griechenland Europa Migration

یورپ کو اس وقت مہاجرین کے سنگین بحران کا سامنا ہے

ہنگری، اٹلی، پولینڈ اور یونان جیسے یورپی ممالک میں ہر دس میں سے چھ سے زائد افراد کی مسلمانوں کے ان کے ممالک میں رہنے کے بارے میں رائے کچھ خراب ہی ہے۔

اس سروے کے نتائج کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یورپی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یورپی ممالک میں مسلمان خود کو منفرد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ وہ معاشرے کے مرکزی دھارے کی اقدار اور طرز زندگی سے دور ہی رہتے ہیں۔

یہ سروے بریگزٹ اور استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے سے قبل کرایا گیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ مہاجرین میں مقبول یورپی ممالک جرمنی اور سویڈن کے زیادہ تر شہریوں میں مہاجرین سے ایسا خوف نہیں پایا جاتا بلکہ وہاں کے عوام کا خیال ہے کہ ایسے افراد کے کام اور ہنرمندی سے ان کے ممالک اقتصادی طور پر مزید مضبوط ہو جائیں گے۔