مہاجرین اور سات ملکوں کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی کا منصوبہ | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین اور سات ملکوں کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی کا منصوبہ

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے زیادہ تر مہاجرین کے ملک میں داخلے اور سات ملکوں کے شہریوں کو ویزا دینے پر عارضی پابندی عائد کر دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں آج بدھ 25 جنوری کو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ایک ’بڑا دن‘ قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ زیادہ تر مہاجرین کے کئی ماہ تک امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دیں گے۔ یہ پابندی صرف ان مذہبی اقلیتی باشندوں پر لاگو نہیں ہو گی، جو ظلم و ستم  سے فرار ہو کر امریکا پہنچیں گے۔

امریکی صدر کے کئی قریبی ساتھیوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایک دوسرے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے سات ملکوں کے شہریوں کو امریکا کے ویزے دینے پر بھی فوری پابندی عائد کر دی جائے گی۔ یہ ممالک شام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن ہیں۔

گزشتہ روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ بدھ کے دن قومی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے اور بہت سی دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بھی تعمیر کریں گے۔ اس طرح ٹرمپ ملکی سرحدی سکیورٹی میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم مہاجرین کی تعداد بھی کم کرنا چاہتے ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ٹرمپ سرحدی سکیورٹی کو سخت کرنے کے احکامات جاری کریں گے اور پھر رواں ہفتے کے دوران ہی مہاجرین پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

صدر اوباما کے دور میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروس کے چیف کونسل کے عہدے پر فائز رہنے والے ماہر قانون اسٹیفن لیگومسکی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ صدر کے پاس یہ اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ عوامی مفاد کو بنیاد بنا کر مہاجرین کی تعداد کو محدود اور مخصوص ملکوں میں ویزوں کے جاری کیے جانے پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے اس پروفیسر کا مزید کہنا تھا، ’’ قانونی نقطہء نظر سے یہ سب کچھ صدر کے اخیتارات کا حصہ ہے اور اس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

اپنی انتخابی مہم کے دوران ابتدائی طور پر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخل ہونے پر عارضی پابندی عائد کر دیں گے تاکہ کوئی جہادی ملک میں نہ آ سکے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ملک میں شامی مہاجرین کو زیادہ بڑی تعداد میں پناہ دینےکا اعلان کیا تھا لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔