مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے ليے عالمی رد عمل درکار ہے، يورپی يونين | مہاجرین کا بحران | DW | 04.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے ليے عالمی رد عمل درکار ہے، يورپی يونين

ترکی ميں اس ماہ کے وسط ميں ہونے والے ترقی يافتہ ممالک کے گروپ (G20) کے اجلاس ميں يورپی يونين کی اعلیٰ قيادت کی جانب سے مطالبہ کيا جائے گا کہ يورپ کو درپيش مہاجرين کے بحران سے نمٹنے ميں عالمی سطح پر کوششيں کی جانا چاہييں۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کی برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترک ساحلی شہر انتاليہ ميں پندرہ اور سولہ نومبر کو ہونے والے جی ٹوئنٹی کے اجلاس ميں يورپی کميشن کے صدر ژاں کلود يُنکر اور يورپی کونسل کے چيئرمين ڈونلڈ ٹُسک شرکت کريں گے اور پناہ گزينوں کے بحران کے حل کے ليے عالمی ردعمل پر زور ديں گے۔

اس سلسلے ميں ٹُسک اور يُنکر نے يورپی ممالک کے سربراہان کے نام اپنے ايک خط ميں لکھا ہے کہ شام اور عراق ميں بد امنی کے سبب ترکی مہاجرين کے موجودہ بحران ميں کليدی اہميت کا حامل ملک ہے۔ ان کے مطابق جی ٹوئنٹی کو اس چيلنج سے نمٹنے کے ليے ايک موبوط اور جديد ردعمل کی قيادت کرنی ہو گی۔ ان يورپی عہديداران کا مزيد کہنا ہے کہ جی ٹوئنٹی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پناہ گزينوں کے ليے امدادی سرگرميوں ميں مصروف تنظيموں کو درکار مالی امداد دستياب ہوتی رہے۔ اپنے اس خط ميں يورپی يونين کے چوٹی کے ان رہنماؤں نے ديگر يورپی ليڈروں کو مطلع کيا کہ ترکی ميں ہونے والے اجلاس ميں اس معاملے کو باقاعدہ طور پر اٹھايا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹُسک نے اس خط ميں مزيد لکھا ہے کہ شينگن زون کو بچانے کا واحد حل يہی ہے کہ يورپی يونين کی بيرونی سرحدوں پر بہتر انتظام لاگو ہو۔ انہوں نے لکھا، ’’ہميں شينگن کو بچانے کے ليے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ سرحدوں کے دوبارہ قيام کے حوالے سے کسی بھی کوشش کو ناکام بنايا جا سکے۔‘‘

يہ امر اہم ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک جی ٹوئنٹی کی صدارت کے فرائض ميزبان ملک ترکی ہی انجام دے رہا ہے۔ انقرہ حکومت پہلے ہی دو ملين شامی اور عراقی پناہ گزينوں کی ميزبانی کر رہی ہے۔ يورپی يونين اس کی خواہاں ہے کہ ترکی يورپ کی طرف بڑھنے والے مہاجرين کی حوصلہ شکنی کرے اور واپس بھيج ديے جانے والے پناہ گزينوں کو بھی اپنے ہاں جگہ دے۔ اس کے بدلے انقرہ حکومت کو يورپی يونين ميں شموليت اور ترک شہريوں کے ليے يورپی يونين ميں بغير ويزے سفر کے مراحل ميں تيزی لانے کی پيشکش کی گئی ہے۔

يورپی سربراہان نو نومبر کو مالٹا ميں افريقی ليڈروں سے بھی ملاقات کريں گے، جس ميں شمالی افريقہ سے غير قانونی ہجرت کر کے يورپ آنے والے پناہ گزينوں کے معاملے پر بات چيت متوقع ہے۔ بعد ازاں بارہ نومبر کے روز يورپی يونين کے رکن ملکوں کے سربراہان ايک غير رسمی اجلاس ميں شرکت کريں گے۔

اشتہار