مہاجرين کی حمايت ميں جرمن شہری سڑکوں پر | مہاجرین کا بحران | DW | 18.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کی حمايت ميں جرمن شہری سڑکوں پر

جرمنی ميں ميئر کی پوزيشن کے ليے کھڑی ہونے والی ايک اميدوار کو ’نسل پرست و سياسی‘ طرز کے حملے ميں زخمی کر ديے جانے کے بعد برلن ميں ہزارہا لوگوں نے ہاتھوں ميں موم بتياں اٹھائے ’غير ملکوں کے خوف‘ کی مخالفت ميں احتجاج کيا۔

جرمن دارالحکومت برلن ميں ہفتے سترہ اکتوبر کی رات تقريباً سات سے آٹھ ہزار افراد نے موم بتياں، لائٹرز اور ٹارچز اٹھا کر اپنے احتجاج کا اظہار کيا۔ يہ افراد مہاجرين کے حق ميں اور ملک ميں پائی جانے والی ’اجنبيوں سے نفرت‘ کی لہر کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ اس ريلی کو متعدد اداروں، سياسی جماعتوں، يونينز اور ايسوسی ايشنز کی حمايت حاصل تھی۔

اسی طرز کی ايک ريلی جرمن شہر کولون ميں بھی نکالی گئی، جہاں گزشتہ روز ميئر کے انتخاب کے ليے جاری انتخابی مہم کے دوران ايک خاتون اميدوار کو زخمی کر ديا گيا تھا۔ چانسلر انگيلا ميرکل کی برسر اقتدار کرسچن ڈيموکريٹس يونين سے قريبی تعلقات رکھنے والی آزاد اميدوار ہينريٹے ريکر پر ايک حملہ آور نے چاقو سے دھاوا بول ديا، جس کے نتيجے ميں ان کی گردن ميں شديد زخم آئے۔ ريکر کی حالت اب اطمينان بخش بتائی جا رہی ہے۔

کولون کے ايک پوليس اہلکار ناربرٹ واگنر نے ايک نيوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتايا کہ چواليس سالہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر ليا گيا تھا اور اس نے اعتراف کر ليا ہے کہ اس نے نسل پرست رجحانات کے سبب يہ حملہ کيا۔ علاقائی پوليس سربراہ وولف گانگ آلبيئرز نے بتايا کہ ريکر مہاجرين سے متعلق معاملات کی نگران بننے والی تھيں۔ پوليس چيف کے بقول يہ حملہ سياسی مقصد کے ليے کيا گيا۔

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے اس حملے کی شديد مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے بھی حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار ديا۔ يہ امر اہم ہے کہ رواں سال کے اواخر تک امکان ہے کہ جرمنی پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد آٹھ تا دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور شمالی افريقی ممالک سے جرمنی آنے والے مہاجرين کے ليے دروازے بند نہ کرنے کی پاليسی کے سبب چانسلر ميرکل کو اپنے قدامت پسند اتحاديوں اور انتہائی دائيں بازو کی چند گروپوں کی تنقيد کا مسلسل سامنا ہے۔

امکان ہے کہ کولون ميں ميئر کے ليے ہونے والے انتخابات ميں ہينريٹے ريکر سرخرو ہو سکتی ہيں

امکان ہے کہ کولون ميں ميئر کے ليے ہونے والے انتخابات ميں ہينريٹے ريکر سرخرو ہو سکتی ہيں

بعد ازاں جرمن شہر کولون ميں بھی مقامی لوگوں نے سٹی ہال کے باہر جمع ہو کر، موم بتياں اٹھائے ايک دوسرے کے ہاتھ پکڑ ليے اور اپنے احتجاج کا اظہار کيا۔ نارتھ رائن ويسٹ فيليا کی وزیر اعلیٰ ہينےلور کرافٹ نے کہا، ’’يہ انسانی زنجیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم اس معاملے پر ايک ساتھ کھڑے ہيں۔‘‘ انہوں نے مزيد کہا کہ وہ اس ريلی کے ذريعے یہی واضع پيغام دينا چاہتی ہيں۔

امکان ہے کہ تقریباً ایک ملین کی آبادی والے جرمنی کے چوتھے سب سے بڑے شہر کولون ميں ميئر کے انتخاب ميں آج بروز اتوار ہونے والے انتخابات ميں ہينريٹے ريکر سرخرو ہو سکتی ہيں۔