مہاجرين جرمن معيشت کے ليے مثبت يا منفی، نئی بحث کا آغاز | مہاجرین کا بحران | DW | 20.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين جرمن معيشت کے ليے مثبت يا منفی، نئی بحث کا آغاز

کچھ عرصہ قبل ايسے تاثرات عام تھے کہ مہاجرين کی بڑی تعداد ميں آمد سے جرمن اقتصاديات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تاہم اب مہاجرين کے اضافی اخراجات کے سبب اس حوالے سے خدشات سامنے آ رہے ہيں۔

جرمنی ميں تعمير کے کام سے متعلق صنعت کی ايسوسی ايشن کے سربراہ ميشائل کنائپر نے حال ہی ميں BDI انڈسٹری فيڈريشن کو ايک خط ميں مہاجرين کے بحران پر يکطرفہ نکتہ نظر فروغ دينے پر تنقيد کا نشانہ بنايا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’بے انتہا توجہ صرف مواقع پر ہی دی جا رہی ہے اور اتنی زيادہ تعداد ميں مہاجرت سے منسلک خطرات کا کوئی ذکر نہيں۔‘‘ ان کے بقول ايسا سوچنا حقيقت سے دور ہو گا کہ جرمنی پہنچنے والے تمام مہاجرين کو فوری طور پر ملازمتيں مل جائيں گی۔

اس معاملے پر جرمن سرکاری موقف يہ ہے کہ مہاجرين کو ملک ميں جگہ دينے، بنيادی سہوليات فراہم کرنے اور ان کے انضمام پر گرچہ کئی بلين يورو کے اخراجات آئيں گے البتہ ان کی وجہ سے پيدا ہونے والی اضافی مانگ اس مد ميں کی گئی سرمايہ کاری سے زائد ہو سکتی ہے۔ اس موقف کے تحت جرمنی ميں کنسٹرکشن کی صنعت کو سب سے زيادہ فائدہ پہنچے گا۔

اس کے برعکس تعمير سے متعلق صنعت کی ايسوسی ايشن مہاجرين کی ريکارڈ تعداد ميں آمد کے طويل المدتی اثرات کی وجہ سے تشويش کا شکار ہے۔ فيڈريشن کا اعتراض ہے کہ سرکاری سرمايہ اگر مہاجرين کی ديکھ بھال کے ليے استعمال ہو گا تو تعليم اور بنيادی ڈھانچے ميں بہتری جيسی چيزوں کے ليے کم رقوم دستياب ہوں گی اور يہ وہ چيزيں ہيں جن پر سرمايہ کاری کے ذريعے طويل المدتی بنيادوں پر معاشی ترقی کا حصول ممکن ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ مہاجرين کی آمد کے معاشی پہلوؤں پر اب تک جاری بحث و مباحثے ميں يہی موقف سامنے آتا رہا ہے کہ جرمنی کو درپيش عمر رسيدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پس منظر ميں ايک ملين سے زائد مہاجرين کی ملک ميں آمد مثبت ثابت ہو گی۔ ايسے ميں اب صنعتوں کی جانب سے سامنے آنے والا يہ نيا موقف ايک نئی بحث کا پيش خيمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرين اقتصاديات اب بھی پر اصرار ہيں کہ مہاجرين کی آمد روزگار کی منڈی پر مثبت اثرات مرتب کرے گی تاہم کچھ ماہرين يہ بھی تنبيہ کرتے ہيں کہ اس پيش رفت سے يورپ کی سب سے مستحکم معيشت کے حامل ملک ميں بے روزگاری کی شرح کچھ عرصے کے ليے ضرور بڑھ سکتی ہے۔ يہ حقيقت بھی غور طلب ہے کہ مہاجرين کی بھاری اکثريت جرمن زبان نہيں جانتی اور نہ ہی ان کی تعليمی و ہنرمندانہ صلاحيتيں فوری طور پر جرمن زورگار کی منڈی کی ضروريات کے مطابق ہيں۔

اشتہار