موگابے استعفیٰ دیں، معزول نائب صدر | حالات حاضرہ | DW | 21.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موگابے استعفیٰ دیں، معزول نائب صدر

زمبابو ے کے معزول نائب صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ ادھر حکمران سیاسی جماعت نے کہا ہے کہ منگل کے دن سے موگابے کے مواخذے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے زمبابوے کے معزول نائب صدر Emmerson Mnangagwa کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ گزشتہ ہفتے موگابے کی طرف سے اپنے نائب صدر کو برطرف کرنے کے نتیجے میں ہی فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ تب سے اس افریقی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

’موگابے صدارتی منصب سے مستعفی ہونے پر تیار ہو گئے‘

زمبابوے: فوج نے اقتدار سنبھال لیا

’نہ مر رہا ہوں، نہ کہیں جا رہا ہوں،‘ صدر موگابے کا اعلان

ایمرسن دو ہفتے قبل اس وقت ملک سے فرار ہو گئے تھے، جب مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تب تک ملک واپس نہیں آئیں گے، جب تک انہیں سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ نامعلوم مقام سے منگل کے دن جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے صدر کو بتا دیا ہے کہ ملک واپسی سے قبل انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ وہ زمبابوے پہنچ کر محفوظ رہیں گے۔

اسی اثناء ملک کی حکمران سیاسی جماعت زانو پی ایف کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ منگل کے دن موگابے کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ زانو پی ایف نے پیر بیس نومبر کو اپنے ایک خصوصی اجلاس میں مواخذہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پارٹی کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ موگابے کو صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو دن درکار ہوں گے۔

مواخذے کی اس تحریک میں ترانوے سالہ موگابے پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ گریس موگابے کو مبینہ طور پر ناجائز طور پر ’آئینی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت‘ دی ہے۔ تاہم موگابے بضد ہیں کہ وہ فوری طور پر صدارت کے منصب سے الگ نہیں ہوں گے۔

اتوار کی شام اپنے ایک نشریاتی خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دسمبر میں ہونے والے پارٹی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ دباؤ کے باعث وہ صدرات کے منصب سے الگ ہو جائیں گے تاہم موگابے نے ایسے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔

زانو پی ایف صدر موگابے کو نہ صرف پارٹی کی صدارت سے الگ کر چکی ہے بلکہ وہ ان کی اہلیہ گریس موگابے کو بھی پارٹی سے نکال چکی ہے۔ ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ موگابے کے بعد ان کی اہلیہ ہی ملک کی نئی سربراہ بن سکتی ہیں۔

ناقدین کے مطابق حکمران پارٹی کے تازہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اب موگابے کے اقتدار میں رہنے کی کوشش ناکام ثابت ہو گی جبکہ آئندہ ملکی سیاسی منظر نامے میں گریس موگابے بھی کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکیں گی۔

DW.COM

اشتہار