موٹاپا اور ذیابیطس بھی سرطان کا سبب بن رہے ہیں | صحت | DW | 28.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

موٹاپا اور ذیابیطس بھی سرطان کا سبب بن رہے ہیں

ایک تازہ سائنسی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ موٹاپا اور شوگر کی وجہ سے کینسر میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے امراض کے حامل افراد میں پیچیدگیاں کینسر کو افزائش دی سکتی ہیں۔

سن 2012 کے بعد سے کینسر کی ایسی چھ نئی اقسام سامنے آئی ہیں، جن کے حوالے طبی محققین نے اپنی ریسرچ سے واضح کیا ہے کہ یہ ذیابیطس (شُوگر) اور موٹاپے کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ موٹاپے میں خاص طور پر واضح کیا گیا کہ انتہائی زیادہ وزن کے حامل افراد کو اضافی وزن کی وجہ سے صحت کے معاملات میں کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے کمر کم کیجیے

’ہر پانچ میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ‘

بھارت میں موٹاپا پھیلتا ہوا

موٹاپے سے تحفظ، شکر کا روزانہ استعمال آدھا کر دیں

کینسر کی یہ افزائش مرد و زن میں مشترکہ طور پر پائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جن افراد کی حیاتیاتی کمیت کا شماریہ یا بائیو ماس انڈیکس (BMI) پچیس یا اُس سے زیادہ ہو، اُن میں ذیابیطس سے سرطان کا پیدا ہونا ممکن ہے۔

امپیریل کالج لندن کی فیکلٹی آف میڈیسن کے کلینیکل ریسرچر جوناتھن پیئرسن اسٹٹرڈ کا کہنا ہے کہ موٹاپے سے کینسر کی افزائش کے طبی ثبوت پہلے سے موجود تھے لیکن ذیابیطس (شوگر) سے کینسر کی افزائش ایک نئی کلینیکل پیشرفت ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ذیابیطس اور موٹاپے ک پیچیدگیوں کے باعث بھی کینسر میں مبتلا ہزاروں مریض سامنے آ چکے ہیں۔

Symbolbild - Blutzuckertest (Imago/J. Tack)

ایک تازہ سائنسی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ موٹاپا اور شوگر کی وجہ سے کینسر میں اضافہ ہوا ہے۔

اس ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ سن 1980 سے لے کر سن 2012 کے درمیان دنیا بھر میں ذیابیطس کے مرض میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ سن 2012 کے بعد معلومات اور آگہی کی مہم سے لوگوں میں ذیابیطس سے بچنے کے طریقوں پر عمل کرنے سے اس مرض کے پھیلاؤ میں معمولی سی کمی بھی نوٹ کی گئی ہے۔

DW.COM

اشتہار