مونٹی حکومت کی مشروط حمایت کی جائے گی، بیرلسکونی | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مونٹی حکومت کی مشروط حمایت کی جائے گی، بیرلسکونی

اٹلی کے سابق وزیراعظم سلویو بیرلسکونی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی حمایت کے بغیر اگر ماریو مونٹی نے کوئی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی تو اُن کی حکومت اگلے انتخابات تک نہیں چل پائے گی۔ یہ انتخابات 2013ء میں ہونا ہیں۔

سلویو بیرلسکونی

سلویو بیرلسکونی

اٹلی کو درپیش شدید اقتصادی بحران اور عوامی دباؤ کے باعث سلویو بیرلسکونی کو گزشتہ اختتام ہفتہ پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ تاہم وہ اب بھی ایک طاقتور سیاستدان ہیں، کیونکہ ان کی اعتدال پسند دائیں بازو کی جماعت PDL کو اب بھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔

ٹیکنو کریٹس پر مبنی نئی عبوری حکومت کے سربراہ ماریو مونٹی پہلے ہی بیرلسکونی کی طرف سے پیش کیے گئے ایک مطالبے کو تسلیم کر چکے ہیں کہ 2013ء میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں وہ بطور امیدوار حصہ نہیں لیں گے۔

سلویو بیرلسکونی نے Corriere della Sera نامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ مونٹی یہ نہیں کرسکتے کہ ہماری بات نہ سنیں۔ PDL پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے، اور یہ بات نئی حکومت کو مد نظر رکھنا ہوگی۔‘‘

مونٹی اس سے قبل جمعہ کے روز کہہ چکے ہیں کہ وہ اگلے انتخابات میں بطور امیدوار شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مونٹی کا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی کسی چیز کے امیدوار نہیں رہے۔

سلویو بیرلسکونی نے اپنے اس نقطہ نظر کو بھی دہرایا کہ اگر ماریو مونٹی کی حکومت نے ویلتھ ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو ان کی جماعت اس کی مخالفت کرے گی۔

ایک بڑے میڈیا نیٹ ورک اور اٹلی کے امیر ترین افراد میں سے ایک سلویو بیرلسکونی دولت پر لگائے جانے والے ٹیکس کی ایک لمبے عرصے سے مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

پی ڈی ایل نے مونٹی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی طرف سے بینکنگ نظام سے متعلق متعارف کردہ ضوابط پر نظر ثانی کریں۔ بیرلسکونی کے بقول اس سے اطالوی بینکوں کو مسائل پیش آ رہے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

اشتہار