مودی کا تعزیت نامہ نواز شریف کے نام بذریعہ مریم نواز | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی کا تعزیت نامہ نواز شریف کے نام بذریعہ مریم نواز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نواز شریف کے نام اپنے خط میں ان کی والدہ سے رائے ونڈ میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ان کی سادگی سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کے انتقال پر انہیں ایک تعزیتی خط روانہ کیا ہے۔ یہ تعزیت نامی ایسے وقت ارسال کیا گیا جب دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اس خط کا بھارتی میڈیا پر کافی  تذکرہ کیا گیا۔

 نواز شریف کی ماں کا انتقال 22 نومبر کو ہوا تھا اور اطلاعات کے مطابق مودی نے یہ خط گزشتہ ہفتے لکھا تھا۔ مذکورہ خط کو اسلام آباد میں بھارت کے قائم مقام ہائی کمشنر گورو اہلووالیہ نے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز تک پہنچایا۔

مودی کا خط جاتی عمرہ پہنچا دیا گیا

 گورو اہلووالیہ نے لکھا، "میں آپ کو بھارتی جمہوریہ کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تحریر کردہ مکتوب آپ کو روانہ کر رہا ہوں، جو پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نام تحریر کیا گيا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس خط کو عزت ماب نواز شریف تک پہنچا دیا جائے۔"

مودی نے نواز شریف کی والدہ کے انتقال پر انہیں، "دل کی گہرائیوں" سے تعزیت پیش کرتے ہوئے لکھا، "ڈیئر میاں صاحب لندن میں آپ کی والدہ بیگم شمیم اختر کے انتقال کے کی خبر سن کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ اس شدید غم کی گھڑی پر میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔"

اس خط میں نریندر مودی نے سن 2015 میں لاہور میں نواز شریف کی والدہ سے ہونے والی ملاقات اور بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، "ان کی سادگی اور گرمجوشی واقعی دل کو چھونے والی تھی۔ اس گہرے غم کے لمحات میں، اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔"

مودی کا خط اور میڈیا

نواز شریف کے نام نریندر مودی کے تعزیتی خط کے بارے میں سب سے پہلے خبریں پاکستانی میڈیا میں آئی تھیں اور بیشتر بھارتی میڈیا نے بھی پاکستانی ذرائع کے ساتھ اسے بھارت میں شائع کیا ہے۔ اطاعات کے مطابق مودی نے یہ خط 27 ستمبر کو لکھا تھا تاہم اسلام آباد میں پاکستانی ہائی کمیشن نے اسے بعد میں مریم نواز کے حوالے کیا۔ 

نریندر مودی نے سن 2014 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے تمام رہنماؤں کو دعوت دی تھی جس میں نواز شریف بھی شریک ہوئے تھے۔ پھر 2015 میں افغانستان کے دورے سے واپسی کے وقت مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے لیے اچانک لاہور کا دورہ کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 04:13

’یہ علاقہ کبھی پاکستان کا حصہ تھا‘

لاہور میں دونوں رہنماؤں نے مختصر میٹنگ کے بعد لاہور ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے رائے ونڈ کا سفر کیا تھا اور وہاں مختصر وقت کے لیے نواز شریف کی پوتی کی شادی میں شرکت کی تھی۔ اسی دوران مودی کی نواز شریف کی ماں سے ملاقات ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دورے کے تقریبا ایک عشرے بعد کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا یہ پہلا پاکستانی دورہ تھا۔

سن  2016 میں بھارت کی ایک فضائی بیس پر دہشتگردانہ حملہ ہوا پھر اڑی سیکٹر میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گيا اور حسب معمول بھارت نے اس کے لیے  پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور تبھی سے دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے شروع ہوئے۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان میں واقع شدت پسندوں کے بعض ٹھکانوں  پر فضائی حملے کا دعوی کیا۔ جوبا پاکستان نے بھی بھارت پر فضائی حملہ کیا اور اس طرح تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ گزشتہ برس بھارت نے جب کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارت ختم کیے تب سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں میں مزید تلخیاں پیدا ہوئیں اورتبھی سے سفارتی تعلقات میں بھی کافی کمی آئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:48

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا آپریشن، پاکستان کا ردعمل

 

DW.COM