مودی وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے متوقع امیدوار | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مودی وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے متوقع امیدوار

بھارت کی ساحلی ریاست گووا میں بی جے پی کا اہم اجلاس منعقد ہورہا ہے، جس میں غالب امکان ہے کہ متنازعہ سیاست دان نریندر مودی کو اگلے برس کے انتخابات کے لیے وزارت عظمیٰ کا امیدار نامزد کر دیا جائے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس دو روزہ اجلاس میں دیگر سیاسی امور کے ساتھ ساتھ اگلے برس کے پارلیمانی انتخابات کے لیے حکمت عملی پر غور ہوگا۔ سخت گیر مؤقف کے حامل نریندر مودی گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ چرچا عام ہے کہ وہ ہی قوم پرست بی جے پی کے انتخابی پینل کے سربراہ قرار دیے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بی جے پی میں کچھ سیاست دان تو اس بنیاد پر مودی کی مخالفت کرسکتے ہیں کہ وہ 2002ء کے مسلمان مخالف فسادات رکوانے میں ناکامی کے ذمہ دار ہیں، اور کچھ سینیئر سیاست دان خود وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

مودی کے سیاسی گرو سمجھے جانے والے سینیئر سیاست دان لال کرشن اڈوانی بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو مودی کے سیاسی رتبے میں بلندی کے خلاف ہیں۔ ذرائع کے مطابق 85 سالہ اڈوانی کے اس مؤقف کا سبب یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلمان ووٹرز بی جے پی سے بدظن ہوں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اڈوانی نے جمعے کے روز یہ کہہ کر کہ وہ ’بیماری‘ ہیں، ایک اہم پارٹی میٹنگ میں بھی حصہ نہیں لیا، اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وہ کسی اہم سالانہ بیٹھک کا حصہ نہیں بنے۔ اس کے باوجود بھارتی سیاسی پنڈتوں کو یقین ہے کہ اتوار کو، یعنی اس اجلاس کے آخری روز، وہ گووا میں ہوں گے اور یوں مودی کی نامزدگی کی علامتی تائید کردیں گے۔

Sonia Gandhi Flagge

بھارت میں گزشتہ دو حکومتی ادوار میں کانگریس کی حکومت رہی ہے

بی جے پی کی ایک اور سینیئر رہنما اوما بھارتی بھی مودی کی نامزدگی کے بابت عدم دلچسپی کا اظہار کرچکی ہیں۔ وہ بھی بی جے پی کے قریب تین سو سیاست دانوں کے اس اجتماع سے غیر حاضر ہیں۔ بی جے پی کے سابق وزیر دفاع جسونت سنگھ بھی غیر حاضر ہیں۔

چند بھارتی اخبارات نے غیر حاضر رہنماوں کے حوالے سے ’نمونیا‘ سے شکایت کی سرخی لگائی ہے جو کسی بیماری نہیں بلکہ مودی کے لقب ’نمو‘ کی جانب اشارہ ہے۔ گووا آمد کے موقع پر 62 سالہ مودی خاصے پرجوش دکھائی دیے اور کیمروں کی جانب فتح کا نشان بناکر غیر حاضر رہنماوں کے حوالے سے اپنی بے پروائی ظاہر کرتے رہے۔

’دا ہندوستان ٹائمز‘ اخبار نے اپنے تبصرے بعنوان ’گووا : دہلی کی جانب مارچ میں مودی کا پہلا قدم‘ میں لکھا ہے کہ دائیں بازو کا یہ سیاست دان قدم جما رہا ہے۔ اتوار کو متوقع طور پر وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے اعلان کے بعد مودی ملک بھر کا دورہ کریں گے اور انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں گے۔ بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی کانگریس پارٹی کے خلاف مودی کی یہ مہم قومی سطح پر ان کی سیاسی صلاحیتوں کا ایک امتحان ہوگا تاہم گجرات میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے فسادات کے سائے ان کے ساتھ رہیں گے۔

(sks / shs (AFP