مودی اور ٹرمپ کے مابین ’گرم جوشی‘ سے ٹیلی فون پر گفتگو | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مودی اور ٹرمپ کے مابین ’گرم جوشی‘ سے ٹیلی فون پر گفتگو

بھارتی قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی نے نئے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کو مل کر کام کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ نئے امریکی صدر نے انہیں واشنگٹن کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

امریکی صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے وزیراعظم کو پہلی فون کال کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گرم جوشی سے بات چیت کرتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملکوں کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔

بھارت کے موجودہ وزیراعظم مودی کو ایک عرصے تک امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ امریکا کی طرف سے یہ سزا انہیں مغربی ریاست گجرات کے فسادات کے نتیجے کے طور پر دی گئی تھی لیکن نریندر مودی کی عام انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد امریکی پالیسی بھی تبدیل ہو گئی تھی اور سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ان سے دوستانہ تعلقات استوار کر رکھے تھے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے نومبر میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے بھی ٹیلی فون پر ’گرم جوشی سے گفتگو‘ کی تھی، جس کے بعد نئی دہلی میں ’خطرے کی گھنٹی‘ بج گئی تھی کیوں کہ مودی حکومت اپنے حریف ملک پاکستان کو ’دہشت گردی سے نتھی کرنے‘ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

دونوں ملکوں کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ٹرمپ اور مودی نے موجودہ تعلقات میں مزید بہتری لانے کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر نریندر مودی نے لکھا ہے، ’’ امریکی صدر کے ساتھ انتہائی گرم جوشی سے گفتگو ہوئی ہے، مل کر کام کرنے اور آئندہ دنوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔‘‘

جب وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ مودی کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی گئی ہے تو اس کے بعد نریندر مودی نے بھی ٹوئٹ کی کہ انہوں نے ٹرمپ کو بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق اس ٹیلی فون کال کے دوران صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’امریکا عالمی مسائل کے حوالے سے بھارت کو اپنا سچا دوست اور ساتھی سمجھتا ہے‘‘۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے معیشت اور دفاع میں تعلقات کا مضبوط بنانے کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

بہت سے مبصرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ ٹرمپ اور مودی کے مابین فطرتی اتحاد قائم ہو گا کیوں کہ دونوں کو تعلق سیاسی اشرافیہ سے نہیں ہے اور دونوں انتہائی تگ و دو کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ اپنے انتخابی مہم کے دوران مسلمان کمیونٹی پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ بھارت کے کچھ حلقے بھی اس رابطہ کاری سے خوش ہیں کیوں کہ بھارت میں بھی ہندوؤں کے اقلیتی مسلمانوں سے کشیدہ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارت اور ٹرمپ انتظامیہ کے مابین صرف ایک موضوع اختلافات کا باعث بن سکتا ہے اور وہ نئی امریکی ویزہ پالیسی کا ہے۔