مودی اور شی کی ملاقات: سرحدی تنازعے اور تجارت پر بحث | حالات حاضرہ | DW | 12.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی اور شی کی ملاقات: سرحدی تنازعے اور تجارت پر بحث

سرحدی تنازعے اور تجارتی خسارے کے سبب ايشيا کی دو بڑی قوتوں چين اور بھارت کے مابين اعتماد کا فقدان پايا جاتا ہے۔ باہمی تعلقات ميں بہتری کے ليے چينی صدر بھارت کے دو روزہ دورے پر ہيں۔

چينی صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزير اعظم نريندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد ہفتے کے روز کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات ميں بہتری کے ليے پيش کردہ تجاويز پر غور کريں گے۔ چينی صدر بھارت کے دو روزہ دورے پر ہيں۔ بھارتی وزير اعظم نريندر مودی کے ساتھ ساحلی شہر ماملاپورم ميں اپنی غير رسمی سمٹ کے دوسرے دن آج ہفتے کو انہوں نے کئی اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خيال کيا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزير اعظم کے ساتھ ان کی بات چيت دوستانہ ماحول ميں ہوئی۔ بھارتی وزير اعظم نے بات چيت کے اختتام پر کہا، ’’يہ چين اور بھارت کے تعلقات ميں ايک نئے باب کا آغاز ہے۔‘‘

نريندر مودی اور شی جن پنگ نے جمعے کو بھی آپس میں بات چيت کی تھی۔ سفارت کاروں کے مطابق اس غير رسمی ملاقات ميں کسی بڑی پيش رفت کا امکان نہيں تھا تاہم بھارت کے زير انتظام کشمير ميں نئی دہلی حکومت کے حاليہ اقدامات پر بيجنگ کے اعتراضات کے تناظر ميں يہ سمٹ اہم قرار دی جا رہی تھی۔ تاہم بھارتی سيکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے واضح کيا کہ کشمير پر کوئی بات نہيں ہوئی۔

نئی دہلی حکومت امکاناً اس بات سے بھی نالاں ہے کہ چين کے پاکستان کے ساتھ قريبی دفاعی تعلقات ہيں۔ دونوں ممالک کے مابين سرحدی تنازعات کے سبب اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ اس غير رسمی سمٹ کا مقصد انہی معاملات ميں بہتری لانا تھا۔

حال ہی ميں جب نئی دہلی حکومت نے کشمير کی خصوصی انتظامی حيثيت کے خاتمے کا اعلان کيا تھا، تو بھارت کے روايتی حريف ملک پاکستان ميں تو اس اقدام پر کافی غم و غصہ ديکھا گيا تھا جب کہ چين نے بھی بھارتی حکومت کے متنازعہ اقدامات کو غلط قرار ديا تھا۔ اس سے بيجنگ اور نئی دہلی کے باہمی تعلقات منفی طور پر متاثر ہوئے تھے۔

جمعے اور ہفتے کو ہونے والے چینی بھارتی مذاکرات کے بعد امکان ظاہر کيا گيا ہے کہ اعتماد بحال کرنے کے ليے دونوں ممالک سرحدوں پر بھی اقدامات کریں گے۔ اعتماد سازی کے ليے تجارت اور سياحت کے شعبوں کے علاوہ مشترکہ فوجی گشت شروع کيے جانے کا بھی امکان ہے تاہم اس بارے ميں کوئی حتمی فيصلہ فی الحال سامنے نہيں آيا۔ چين اور بھارت کی مشترکہ سرحد تقريباً ساڑھے تين ہزار کلوميٹر طويل ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک سن 1962 ميں سرحدی تنازعے کی وجہ سے ایک جنگ بھی لڑ چکے ہيں۔ دوطرفہ مذاکرات کے بيس ادوار کے باوجود یہ باہمی سرحدی تنازعہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔
دريں اثناء بھارت کے سيکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے بتايا کہ شی جن پنگ اور نريندر مودی نے جمعے کو اقتصادی اور مالياتی امور پر بھی بات چيت کی تھی۔ مالی سال 2018 اور 2019ء ميں بھارت کو چين کے ساتھ تجارت ميں ستاون بلين ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا تھا۔
چينی صدر اپنے دو روزہ دورہ بھارت کے بعد آج ہفتے کو ہی نيپال روانہ ہو رہے ہيں، جہاں وہ اپنے ’ون بيلٹ، ون روڈ‘ منصوبے کو مزيد وسعت دينے کی کوشش کريں گے۔

ع س / م م، نيوز ايجنسياں

ملتے جلتے مندرجات