ممتاز قادری کی تدفین اور میڈیا کے خلاف غصہ | حالات حاضرہ | DW | 01.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممتاز قادری کی تدفین اور میڈیا کے خلاف غصہ

سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تدفین منگل کے روز اسلام آباد کے ایک دیہی علاقے کے قبرستان میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے کر دی گئی ہے۔ نماز جنارہ میں شریک ہزاروں افراد حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

اس سے قبل پنجاب پولیس کے سابق اہلکار ممتاز قادری کی نماز جنازہ راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ دیگر شہروں سے نماز جنازہ میں شرکت کے لئے لیاقت باغ پہنچے تھے۔ پولیس نے دیگر شہروں سے نماز جنازہ کے لئے آنے والے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا۔ ممکنہ احتجاج کے خدشے کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں اکثر نجی اور سرکاری سکول بند رہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو سروس معطل ہونے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی کافی کم رہی۔ عام شہریوں کو اس صورتحال کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قادری کی نماز جنازہ میں شرکت کرنیوالوں میں زیادہ تعداد بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی تھی۔ اس کے علاوہ مذہبی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی ،جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان کے رہنما اور کارکن بھی شریک ہوئے۔

جماعت اسلامی نے ممتاز قادری کی پھانسی کے دن کو یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے جمعے تک روزانہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق خصوصی طور پر نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

قادری کی نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کی لاش کو دفنانے کے لئے ایک ایمبولینس میں رکھ کر جلوس کی شکل میں اسلام آباد کے ایک دیہی علاقے بھارہ کہو کے گاؤں "اٹھال" لے جایا گیا۔

راولپنڈی کی طرح اسلام آباد کی انتظامیہ نے بھی سکیورٹی کے سخت ترین حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی گئی۔ ممکنہ ردعمل کے پیش نظر گزشتہ رات سے ہی ریڈ زون کو جانے والے ایک کے علاوہ تمام راستے کنٹینر کھڑے کر کے بند کردیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں وکلاء کی تنظیم اسلام آباد بار کونسل نے بھی ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف ہڑتال کی اور احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

تاہم قادری کی نمازہ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں کوریج نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس کا سبب بظاہر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے اس انتباہ کو قرار دیا جارہا ہے جس میں ٹی وی چنیلز کو اس واقعے کی کوریج میں انتہائی 'احتیاط' برتنے کا کہا گیا تھا۔

اس صورتحال کی وجہ سے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نماز جنازہ کے موقع پر اور بعد میں سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر شدید تنقید کی۔ راولپنڈی میں بعض مقامات پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔

ممتاز قادری کو اتوار اور پیرکی درمیانی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری حفاظتی اسکواڈ میں شامل ممتاز قادری نے چار جنوری دو ہزار گیارہ کو سرکاری کلاشنکوف کا برسٹ مار کر گورنر کو قتل کر دیا تھا۔گرفتاری کے بعد ملزم نے توہین مذہب کے الزام میں گورنر کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو یکم اکتوبر 2011ء کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا۔ ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر عدالت نے گزشتہ سال گیارہ فروری کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم عدالت نے فوجداری قانون کے تحت اُس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم کی رحم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف موت کو سزا کو برقرار رکھابلکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو بھی بحال کر دیا۔ اس کےبعد صدر ممنون حسین نے بھی ممتاز قادری کی معافی کی اپیل مسترد کر کے سزا کو برقرار رکھا تھا۔

اشتہار