’ملک دشمن کاغذات‘: بنگلہ دیشی اپوزیشن لیڈر کے دفتر پر چھاپہ | حالات حاضرہ | DW | 20.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ملک دشمن کاغذات‘: بنگلہ دیشی اپوزیشن لیڈر کے دفتر پر چھاپہ

بنگلہ دیش میں پولیس نے سابق وزیر اعظم اور موجودہ اپوزیشن کی مرکزی رہنما خالدہ ضیا کے دفتر پر ’ملک دشمن دستاویزات‘ کی تلاش میں چھاپہ مارا، جس کے بعد اپوزیشن کے سینکڑوں کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔

Bangladesch Begum Khaleda Zia (Getty Images/M. Uz Zaman)

سابق وزیر اعظم اور بی این پی کی رہنما بیگم خالدہ ضیا

ملکی دارالحکومت ڈھاکا سے ہفتہ بیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ چھاپہ آج ہفتے کے روز مارا گیا اور اس دوران اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یا بی این پی کی لیڈر اور سابقہ وزیر اعظم خالدہ ضیا کے دفتر کی تلاشی لی گئی۔

اس چھاپے کے بعد اپوزیشن کارکن اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے شدید طیش میں آ گئے اور انہوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ بنگلہ دیش میں، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی تعلقات عرصے سے بہت ہی خراب چلے آ رہے ہیں، پولیس دو مرتبہ ملکی وزیر اعظم رہ چکی خاتون سیاستدان خالدہ ضیا کے ڈھاکا میں سینٹرل آفس کے تالے توڑ کر اندر گھس گئی۔

بنگلہ دیشی کابینہ کے دو وزراء کو توہین عدالت کے جرم میں سزا

خالدہ ضیاء کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ کھل گیا

خالدہ ضیاء کے وارنٹ گرفتاری جاری

ڈھاکا میں یہ چھاپہ شہر کی اشرافیہ کا علاقہ سمجھے جانے والے حصے گلشن میں قائم جس دفتر پر مارا گیا، وہ ایک دو منزلہ عمارت ہے اور درجنوں پولیس اہلکار کئی گھنٹوں تک اس عمارت کی تلاشی لیتے رہے۔ بعد ازاں پولیس کی طرف سے بتایا گیا کہ جن دستاویزات کی تلاش میں وہ اس عمارت میں داخل ہوئی تھی، اسے وہاں ویسا ’کوئی مواد نہیں ملا‘۔

Bangladesch Dhaka Anschlag auf Khaleda Zia (picture-alliance/AA/Stringer)

خالدہ ضیا کو اپنے خلاف کرپشن سے لے کر بغاوت تک کے الزامات کے تحت قریب تین درجن مقدمات کا سامنا ہے

بعد ازاں گلشن کے علاقے میں پولیس کے مقامی سربراہ ابوبکر صدیقی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم ایک عدالتی حکم کے تحت اس عمارت میں داخل ہوئے تھے اور مقصد ملک دشمن اور حکومت دشمن دستاویزات کی تلاش تھا۔‘‘

اس چھاپے کے بعد اپوزیشن جماعت بی این پی نے کہا کہ ڈھاکا پولیس کی سابق ملکی وزیر اعظم کے خلاف یہ کارروائی اسی ’سازش‘ کا حصہ ہے، جس کے تحت خالدہ ضیا پہلے ہی اپنے خلاف مبینہ کرپشن، بغاوت اور تشدد کو ہوا دینے جیسے الزامات کے تحت قریب تین درجن مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ترجمان روح الکبیر رضوی نے اس پولیس کارروائی کے بعد ڈھاکا میں کہا، ’’یہ کارروائی حکومت سیاسی وجوہات اور انتقامی سوچ کی بنا پر کروا رہی ہے اور اس کا مقصد ہماری پارٹی سربراہ کی ساکھ خراب کرنا ہے۔‘‘رضوی نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے اس چھاپے کے لیے پہلے اس عمارت کے تالے توڑے اور وہاں سکیورٹی کے لیے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی ناکارہ بنا دیے۔

DW.COM

اشتہار