مفلسی کے شکار افغان شہریوں کے لیے ایران ایک آخری امید | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مفلسی کے شکار افغان شہریوں کے لیے ایران ایک آخری امید

افغانستان میں شدید اقتصادی بحران کی وجہ سے افغان شہری دوسرے ملکوں کی جانب ہجرت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسے میں کئی لوگ ایران کا رخ کر رہے ہیں، جس سے تہران اور طالبان میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ برس اگست میں جب سے طالبان نے کابل پر اپنی حکومتی عمل داری قائم کی ہے تب سے افغانستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ دوسرے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس ملک کی مالی امداد روک رکھی ہے۔

بہت معمولی سی مالی امداد ابھی بھی غربت زدہ افغان شہریوں تک پہنچ رہی ہے لیکن اس کا حجم بہت تھوڑا اور یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب بھوک سے تنگ افغان شہری ایران کا رخ بھی کر رہے ہیں۔

’افغانستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے‘

افغان مہاجرین میں اضافہ اور کشیدگی

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی سرحد عبور کرنے کی وجہ سے ایران اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق پانچ ہزار کے قریب افغان شہری مشکل اور خطرناک راستوں سے گزرتے ہوئے روازانہ کی بنیاد پر ایران میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال پر ایران کو بھی مشکل حالات کا سامنا ہے۔

Grenze Türkei Iran

ایرانی سرحدی محافظین بارڈر پر نگرانی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں

ایران مخالف مظاہرے

ایران سرحدی محافظین اور طالبان کے درمیاں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد مسلح جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ تین افغان شہروں میں افغان شہریوں نے ایران مخالف احتجاجی مظاہروں میں شریک ہو کر تہران حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ایرانی قونصل خانے پر پتھراؤ بھی کیا اور اس کی عمارت کے باہر آگ بھی لگا دی۔

ایران پہنچنے والے افغان مہاجرین

ایران کی افغانستان کے ساتھ نو سو ساٹھ کلومیٹر یا پانچ سو بہتر میل طویل سرحد ہے۔ اس کے کئی مقامات پر متعین بارڈر گارڈ سرحد عبور کرنے والے مہاجرین کا راستہ روک دیتے ہیں۔ کئی مقامات بالکل ویرانے میں ہیں اور لوگ ان میں سے گزر کر ایرانی سرزمین پر پہنچتے ہیں۔ ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ کئی افغان انتہاپسند مہاجرین کا روپ دھار کر تہران پہنچ چکے ہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ افغانستان کے ازبک نژاد شہری نے مشہد مقدس میں چاقو کے وار کر کے تین مقامی علما کو زخمی کر دیا تھا، ان میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

آخری سہارا

اس سرحد کو اب افلاس کے مارے افغان شہری زندگی بچانے کا آخری سہارا سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب انسانی اسمگلروں کی چاندی ہو رہی ہے کیونکہ مفلس افغان لوگ بچی کھچی پونجی ان اسمگلروں کو دے کر ایران پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی یہ انتہائی مشکل سفر پیدل بھی اختیار کرتے ہیں۔ کئی افغان مہاجر ایران پہنچنے کی امید لیے راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔

Iran Afghanische Flüchtlinge | NRC Jan Egeland

ناروے ریفیوجی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکاروں نے نومبر سن 2021 میں ایران میں افغان میاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا تھا

'سرحدی جھڑپیں طول پکڑ سکتی ہیں‘

سیاسی مبصرین کا خیال کہ اس کشیدہ صورت حال میں دونوں ممالک کسی بھی طور پر اضافے کی خواہش نہیں رکھتے اور اگر کشیدگی میں کمی  پیدا نہیں ہوئی تو سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ طول پکڑ سکتا ہے۔

افغان مہاجرین کا ایران پہنچنے کا کٹھن سفر

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایران کو پہلے ہی مشکل حالات کا سامنا ہے کیونکہ اس پر سخت اقتصادی پابندیوں کا نفاذ ہے اور ایسے میں تہران کو افغان مہاجرین کی مسلسل بڑھتی تعداد کو سنبھالنا مشکل تر ہو رہا ہے۔

تہران کی ایک خاتون سیاسی مبصر ریا قنوشاوی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس وقت مزید مہاجرین کا سنبھال کر اپنی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

ع ح/ع ا  (اے پی)