مغرب کے لیے جانوروں کے حقوق شامی باشندوں سے زیادہ اہم ہیں، ایردوآن | حالات حاضرہ | DW | 14.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغرب کے لیے جانوروں کے حقوق شامی باشندوں سے زیادہ اہم ہیں، ایردوآن

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے مغربی ملکوں کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہم جنس پرستوں اور جانوروں کی زیادہ فکر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رجب طیب ایردوآن نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ ان کے لیے بحران سے دو چار شامی مہاجرین کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوششوں سے زیادہ ہم جنس پرستوں اور جانوروں کے حقوق زیادہ اہم ہیں۔

جمعے کے روز ترکی کے شمال مغربی حصے میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن مغرب پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ (مغربی ممالک) ایک ایسی ذہنیت کو فروغ دے رہا ہے جو ’غلامی اور نو آبادیاتی دور کی عکاسی کرتی ہے‘۔

اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے یورپی یونین کے خلاف سخت بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہے ہیں جب یورپی یونین کی طر ف سے ترکی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کے باشندوں کو یورپی ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کی سہولت مل جائے تو اسے انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے قوانین تبدیل کرنا ہوں گے اور انہیں یورپی معیارات کے مطابق بنانا ہو گا۔

اجتماع سے خطاب میں ایردوآن کا کہنا تھا، ’’ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو ان خواتین اور بچوں کی مدد کے لیے کوئی احساس نہیں دکھا رہے جو مدد کے لیے ان تک پہنچے ہیں۔‘‘ ایردوآن کا مزید کہنا تھا، ’’ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو وہیل مچھلیوں، سِیل یا سگ ماہی اور کچھوؤں کے لیے جس قدر احساس دکھاتے وہ اس قدر احساس 23 ملین شامی باشندوں کے لیے نہیں رکھتے۔‘‘

معاہدے کے عمل میں آنے کے بعد یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں انتہائی کمی واقع ہو چکی ہے

معاہدے کے عمل میں آنے کے بعد یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں انتہائی کمی واقع ہو چکی ہے

رواں برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد مہاجرین اور تارکین وطن کے اُس سیلاب کو روکنا تھا جو یورپ کی طرف رُخ کر رہا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ترکی نے ایسے تارکین وطن اور مہاجرین کو اپنی سرزمین پر ہی روکنا تھا جو کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچ رہے تھے۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا اس طرح یونان پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں یورپی یونین تُرکی کو نہ صرف اپنی سرزمین پر موجود مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے امداد فراہم کی جانی تھی بلکہ تُرک شہریوں کو ویزے کے بغیر یورپی یونین میں سفر کی اجازت بھی دی جانا تھی۔

اس معاہدے کے عمل میں آنے کے بعد یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں انتہائی کمی واقع ہو چکی ہے۔

تاہم رجب طیب ایردوآن جمعرات 12 مئی کو کہا تھا کہ یورپی یونین اب ترک باشندوں کے لیے ویزہ فری انٹری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہونے کے بعد یونین کے طرف سے ایسی 72 شرائط عائد کی گئیں ہیں، جو پہلے نہیں تھیں۔

دوسری جانب یورپی پارلیمان کا کہنا ہے کہ جب تک انقرہ حکومت یورپی یونین کی شرائط پورا نہیں کرتی، تب تک ترک شہریوں کے بغیر ویزا سفر کی سہولت دینے کے موضوع پر کوئی پارلیمانی بحث یا مشاورت بھی نہیں ہو سکتی۔