معيشت کے بعد اب چين کی نگاہ کھيلوں پر | معاشرہ | DW | 17.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

معيشت کے بعد اب چين کی نگاہ کھيلوں پر

اقتصادی لحاظ سے تو چين عالمی سطح پر مستحکم ترين ملکوں ميں سے ايک ہے تاہم اب ايسا معلوم ہوتا ہے کہ يہ ملک کھيلوں کی دنيا پر بھی راج کرنا چاہتا ہے۔

چينی صدر شی جن پنگ فٹ بال کے ایک بڑے مداح ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ ان کے ليے يہ بات کافی بے چينی کا سبب ہو گی کہ چين کی قومی فٹ بال ٹيم اس وقت فيفا کی عالمی رينکنگ ميں 76 ويں نمبر پر ہے۔ يوگنڈا، بوليويا، گنی، کينيڈا اور کئی ديگر ملکوں سے پيچھے۔

چين ميں پچھلے کچھ عرصے سے فٹ بال کے ٹريننگ سينٹرز اور اسکولوں ميں اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ چينی سپر فٹ بال ليگ نے عالمی سطح پر کئی نامور کھلاڑيوں کو اپنی جانب راغب کيا ہے۔ ليگ ميں بھاری بھرکم سرمايہ، کئی شہرت يافتہ کوچز کو لبھانے ميں بھی کارآمد ثابت ہوا۔ دريں اثناء جرمن قومی فٹ بال ليگ بنڈس ليگا اور ديگر ليگز کے چند بڑے بڑے کلبز نے چين ميں کھيلوں کے ميدان ميں سرمايہ کاری جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہيمبرگ انسٹيٹيوٹ آف انٹرنيشنل اکنامکس کے ڈائريکٹر ہيننگ فوپل کے نزديک يہ بات بالکل ہی قابل فہم ہے۔ ''چين ايک اعشاريہ چار بلين افراد پر مشتمل اور مستحکم اقتصادی ترقی کا حامل ملک ہے اور سياسی و جغرافيائی سطح پر اس کے پھيلتے ہوئے اثر و رسوخ کو مد نظر رکھتے ہوئے کھيلوں کے مستقبل کا چين کے بغير تصور بھی ممکن نہيں۔‘‘

دوسری جانب يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ چين ميں کاروبار کرنا کوئی آسان کام نہيں۔ بنڈس ليگا کے کلب کولون کو حال ہی ميں يہ بات اس وقت سمجھ آئی جب شن يينگ ميں ايک فٹ بال اکيڈمی تعمير کرنے کا اس کا منصوبہ زيادہ آگے نہ بڑھ سکا۔

ہيننگ فوپل نے مزيد کہا، ''جيسا کہ ہم نے ديکھا ہے کہ چين اپنے بيلٹ اينڈ روڈ منصوبے اور مصنوعی ذہانت کےشعبے ميں سرمايہ کاری کی طرح ديگر شعبوں ميں بھی اپنا اثر و رسوخ اور قوت بڑھانا چاہتا ہے۔‘‘ وہ اسپورٹس فيڈريشنز ميں چين کی بڑھتی ہوئی مقبوليت کی ايک اور وجہ بھی ديکھتے ہيں۔ اور وہ ہے چين ميں ڈيجيٹل ٹيکنالوجی کا معيار۔

کھيلوں ميں اخلاقيات اور کاروباری مفادات ميں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہيننگ فوپل نے کہا کہ کچھ معاملات ميں حدود طے کرنا پڑیں گی۔

ع س / ع ا، نيوز ايجنسياں

DW.COM