معمر قذافی کی ہلاکت کے دس برس بعد لیبیا کہاں کھڑا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 20.10.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

معمر قذافی کی ہلاکت کے دس برس بعد لیبیا کہاں کھڑا ہے؟

لیبیا کے آمر معمر قذافی کو بیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک دہائی گزر چکی ہے لیکن تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک اب تک تصادم، افراتفری اور سیاسی انتشار کے دور سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل (این ٹی سی) کے ترجمان عبدالحفیظ غوقۃ نے بیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو اعلان کیا تھا،”ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ  قذافی انقلاب کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ ظلم و جبر اور آمریت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔"

فروری دو ہزار گیارہ میں لیبیائی عوام بھی پڑوسی ملک تیونس کے انقلاب سے حوصلہ پا کر آمر معمر قذافی، جو 1969ء کی بغاوت کی قیادت کرنے کے بعد ترقی کر کے ملکی اقتدار تک پہنچے تھے، کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ نے آمر حکومت سے شہریوں کی حفاظت کے لیے مارچ میں ایک فوجی کارروائی کی منظوری دے دی تھی۔ نیٹو نے قذافی کی فوج پر حملے شروع کر دیے تھے، جس سے لیبیا کے ڈکٹیٹر کی فورسز کافی حد تک کمزور ہو گئی تھیں۔

خونی انجام

قذافی دارالحکومت طرابلس سے فرار ہو گئے۔ مہینوں تک چھپتے پھرنے کے بعد بالآخر طرابلس سے چار سو پچاس کلومیٹر مشرق میں واقع شہر سرت میں ان کے ٹھکانے کا پتہ چل ہی گیا۔”انقلابی لیڈر" کو اس وقت پکڑ لیا گیا، جب وہ ایک نالے کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ باغیوں نے انتہائی پرتشدد انداز میں انہیں اسی وقت ہلاک کر دیا۔ خون سے لت پت ان کی لاش کی تصویریں پوری دنیا میں نشر کی گئیں۔

ہیمبرگ میں انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ اسٹڈیز میں لیبیائی امور کی ماہر حاجر علی بتاتی ہیں کہ قذافی حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کے آغاز کے ساتھ ہی خوردنی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے لگی تھیں اور نوجوانوں میں بے روزگار ی کی شرح بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ ابتدا سے ہی لوگ جمہوریت کا مطالبہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی اپیلیں کر رہے تھے۔ حاجر علی کہتی ہیں،”لیبیائی چاہتے تھے کہ طرابلس کی ابو سالم جیل میں انیس سو چھیانوے میں ہونے والی قتل عام جیسی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیو ں کی تفتیش کرائی جائے۔ اس واقعے میں جیل میں قید تقریباً بارہ سو سے سترہ سو کے درمیان افراد مارے گئے تھے۔ یہ جرم قذافی دور حکومت کی نمایاں بات تھی۔"

Libyen Gaddafi Versteck in Sirte

لیبیائی عوام ایک نئی صبح کے لیے کافی پر امید تھے حالانکہ اس وقت بھی بعض مبصرین نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا،”آنے والے دن لیبیا اور اس کے عوام کے لیے بہت سخت اور چیلنجز سے بھرے ہوں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ لیبیا کے عوام متحد ہو جائیں۔ صرف قومی اتحاد اور مفاہمت کے ذریعے ہی لیبیا کے عوام کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔"

تاہم یہ صرف ایک خوش فہمی تھی کیونکہ سن دو ہزار چودہ میں عوامی ناراضی اور کشیدگی نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی تھی۔ حاجر علی کہتی ہیں کہ اس صورت حال کے لیے بڑی حد تک خود قذافی ذمہ دار تھے۔ انہوں نے لیبیائی فوج کے اہلکاروں کو اقتدار سے باہر رکھا اور غیر ملکی فوجیوں کو اپنی حفاظت کے لیے مامور کیا۔ وہ مزید کہتی ہیں،”اس حکمت عملی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے حریف ہو گئے اور یہ سلسلہ آمر کی موت کے بعد بھی برسوں تک جاری رہا۔"

بغاوت کے دوران قذافی کو اقتدار سے برطرف کرنے کے لیے مختلف گروپوں کے مابین مختصر وقت کے لیے اتحاد بھی ہوا لیکن قذافی کے زوال کے ساتھ ہی اتحاد کا شیرازہ منتشر ہو گیا۔ ایسی کوئی سیاسی صورت نہیں بن سکی، جہاں لوگ اپنے اختلافات کو دور اور  مل بیٹھ کر فیصلے کر سکیں۔" اس دوران کئی انتخابات بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود قومی اتحاد قائم کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔

ایک ناکام ریاست

ریاستی طاقت منشتر ہو گئی اور جلد ہی دو حکومتیں قائم ہو گئیں۔ ایک طرابلس میں اور دوسری ملک کے مشرقی حصے تبروک میں۔ اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کے خاطر یکے بعد دیگر متعدد ممالک بھی خانہ جنگی میں مداخلت کرنے لگے۔ ان میں روس، ترکی، مصر اور متحدہ عرب امارات بھی شامل تھے۔ پیسوں کے خاطر دوسرے ملکوں کے لیے کام کرنے والے مسلح گروہ آج بھی اس ملک میں موجود ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اس وقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فائز السراج حکومت کے ساتھ اتحاد قائم کر کے بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر پر ترکی کے دعوے پر زور دینے کی کوشش کی۔ مصر اور متحدہ عرب امارات نے تبروک میں قائم مبینہ جلاوطن حکومت کی حمایت کی، جس کے ملیشیا کمانڈر خلیفہ حفتر سے تعلقات ہیں۔ مصر کو یہ امید تھی کہ ایسا کرنے سے لیبیا کو اسلام پسند طاقتوں اور بالخصوص اخوان المسلمون کی گرفت سے باہر نکلنے میں مدد ملے گی۔

یورپی یونین کی مختلف حکومتوں کی تیل کے ساتھ ساتھ اس بات میں دلچسپی تھی کہ لیبیا بحیرہ روم کے ذریعے یورپی یونین کے ملکوں میں داخل ہونے سے مہاجرین کو روکنے میں مدد کرے۔ یہی ایک وجہ تھی کہ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے فروری دو ہزار بیس میں لیبیا کے پڑوسی ملکوں کو بھی بات چیت میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

لیبیا کانفرنسیں

لیبیا میں خانہ جنگی کو ختم کرنے اور عدم استحکام قائم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کئی خصوصی ایلچیوں نے باہم متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی اور بالآخر جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سن دو ہزار بیس اور سن دو ہزار اکیس میں دو لیبیا کانفرنسوں کا انعقاد ممکن ہو سکا۔

فروری میں لیبیائی عوام عبدالحمید دبیبہ کو عبوری وزیر اعظم بنانے پر رضامند ہو گئے۔ انہیں دسمبر میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ لیکن اب یہ پارلیمانی انتخابات مزید ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

حاجر علی کہتی ہیں کہ لیبیا کے بہت سارے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ آرمی اور دیگر مسلح افواج پر کنٹرول مستقبل کی حکومت کو درپیش اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔ وہ کہتی ہیں،”اس بات کا خطرہ ہے کہ مسلح افواج کو پوری طرح کنٹرول میں نہیں رکھا جا سکے گا یا وہ ٹھیک سے کنٹرول نہیں ہو سکیں گی اور دوسروں کے احکامات کی تعمیل نہیں کریں گی۔" ایسے بہت سے مسلح گروپ ہیں، جوکسی بھی انتخابی نتائج کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

قذافی کی موت کے دس برس گزر جانے کے باوجود لیبیا میں جمہوریت، امن ، استحکام اور بیرونی طاقتوں سے آزادی ایک خواب ہی ہے۔

(کرسٹین کنیپ)ج ا / ا ا

DW.COM