معجزے کی توقع نہ کی جائے، ہسپانوی رہنما ماریانو راخوائے | حالات حاضرہ | DW | 21.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معجزے کی توقع نہ کی جائے، ہسپانوی رہنما ماریانو راخوائے

اسپین کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرنی والی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ ماریانو راخوائے نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے اقتصادی بحران کے حل کے لیے کسی’معجزے‘ کی توقع نہ کی جائے۔

default

پیپلز پارٹی کے سربراہ ماریانو راخوائے

اسپین میں اتوارکو منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اپوزیشن پیپلز پارٹی نے ایوان زیریں کی کل ساڑھے تین سو نشستوں میں سے 186 پر کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ حکمران سوشلسٹ پارٹی کو ایک سو دس نشستوں پر کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

2004ء سے برسراقتدار سوشلسٹ ورکرز پارٹی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے جبکہ 1975ء میں جنرل فرانکو کے آمرانہ دورکے بعد سے سوشلسٹ پارٹی کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو چوالیس فیصد ووٹ پڑے ہیں جبکہ سوشلسٹ ورکرز پارٹی کو انتیس فیصد۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ راخوائے نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کا نیا وزیر اعظم بننے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت گزشتہ تیس برس کے بعد پہلی مرتبہ انتہائی نازک موڑ پرکھڑا ہوا ہے۔ 56 سالہ راخوائے نے کہا کہ یورپ میں اقتصادی طور پر اپنی عزت بحال کرنے کے لیے ہسپانوی عوام کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔

راخوائے نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے تاہم اس کے لیے عوام کو ان کا ساتھ دینا ہو گا۔ ترقی کی رفتار میں کمی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کی شرح میں غیر معمولی اضافہ راخوائے کی نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

اس وقت اسپین کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے جبکہ ملک میں بے روزگاری کی شرح قرب بائیس فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو یورپی یونین کے رکن ممالک میں سب سے زیادہ تصور کی جاتی ہے۔ ان حالات میں موجودہ وزیر اعظم خوسے لوئیس سپاتیرو کی سوشلسٹ پارٹی کی شکست یقینی نظر آ رہی تھی۔ ان انتخابات سے قبل ہی عوامی جائزوں کے دوران عوام کی ایک بڑی تعداد نے ملک کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار سوشلسٹ پارٹی کو قرار دیا تھا۔

NO FLASH Zapatero löst Parlament auf Neuwahl im November 2011

شوشلسٹ ورکرز پارٹی کے رہنما سپاتیرو نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے

ان انتخابات میں راخوائے کے مقابلے میں سوشلسٹ رہنما الفریڈو پیرس روبل کابا تھے۔ وزیر اعظم سپاتیرو پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ وہ تیسری مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے میدان میں نہیں اتریں گے۔ ملک کی نازک اقتصادی صورتحال کے باعث سپاتیرو نے سخت دباؤ کےنتیجے میں مقررہ مدت سے چار ماہ قبل ہی ان انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 72 فیصد رہی۔

یورپی یونین کے اقتصادی ماہرین نے ایسے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر اسپین کی نئی حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی نہ کی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات نہ اٹھائے تو اس یورپی ملک کو بھی یونان اور اٹلی کی طرح کے مالیاتی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

اشتہار