معاشرے کی سوچ بدلنے کی کوشش کرتے پاکستانی ڈرامے | فن و ثقافت | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

معاشرے کی سوچ بدلنے کی کوشش کرتے پاکستانی ڈرامے

اپنی زندگی میں شہرت کی متلاشی قندیل بلوچ پاکستانی معاشرے میں وہ مقام تو نہیں بنا سکی جس کی وہ متمنی تھی۔ لیکن اپنی موت کے بعد یہ سوشل میڈیا اسٹار ، اپنا مقصد حاصل کرنے میں شاید کامیاب رہی ہے۔

آج قندیل بلوچ کو قریب ہر پاکستانی جانتا ہے۔اس کی الم ناک زندگی کی کہانی پر بنایا جانے والا ڈرامہ پاکستان میں بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ ملک کے ایک نجی ٹی وی چینل سے نشر کیا جانے والا  یہ ڈرامہ  بلا شبہ ان میں سے ایک ہے، جو پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے اور یہ کسی چیلنج سے کم نہیں۔

نوجوانی میں استحصال کا شکار ہونے سے لے کر اپنی ہیجان خیز تصاویر سے سوشل میڈیا اسٹار بن جانے اور پھر غیرت کے نام پر بھائی کے ہاتھوں قتل کر دی جانے والی قندیل بلوچ کی زندگی کے سفر کا احاطہ کرتا  ڈرامہ ’ باغی‘ اس وقت مقبولیت میں آگے نظر آتا ہے۔ اس ڈرامے کے ناظرین کی حتمی تعداد کا تو تعین کرنا مشکل ہے لیکن اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی پہلی قسط کو صرف یو ٹیوب پر ہی 1.6 ملین مرتبہ دیکھا گیا۔

 یہ پہلی بار نہیں تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کے بعد مباحثوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہو اور باغی جیسا ڈرامہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ سلسلہ تھمے بھی نہیں۔ اور صرف باغی ہی نہیں، پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسے متعدد ڈرامے اس وقت نشر کیے جا رہے ہیں، جو بچوں سے زیادتی سے لے کر گھریلو تشدد جیسے  حساس سماجی موضوعات کا احاطہ کر رہے ہیں۔ ان میں ٫ مجھے جینے دو‘ نامی ڈرامہ ہے جس کا موضوع کم عمری کی شادی ہے۔ اسی طرح 2016 میں ’اڈاری‘ نام کا ایک ڈرامہ بھی بے حد مقبول ہوا جس میں  کم عمر بچی کی سوتیلے باپ کے ہاتھوں زیادتی  جیسے حساس واقعے کو موضوع بنایا گیا تھا۔ اسی طرح ’ سمی‘ نام کے ڈرامے میں جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل اور لڑکیوں کو جائیداد میں سے حصہ نہ دینے پر بات کی گئی۔

’ممنوعہ موضوعات‘ پر بننے والے پاکستانی ٹی وی ڈرامے

’خدا میرا بھی ہے‘

پاکستان میڈیا ریگولیٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں ملک کی 65 فیصد عوام نے ٹی وی ڈرامے دیکھنے میں دلچسپی لی۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاونڈیشن سے تعلق رکھنے والی وکیل، بےنظیر جتوئی کے مطابق ملک میں ٹی وی ڈراموں کی مقبولیت کوترقی کی جانب سفر میں ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔   

 

DW.COM

اشتہار