مصر کے سابق صدر مرسی کی سزائے قید برقرار | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کے سابق صدر مرسی کی سزائے قید برقرار

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو دی جانے والی بیس سالہ قید کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔ سزا کے خلاف مرسی کے وکلاء نے اپیل کی تھی۔

عدالت نے مرسی کے آٹھ ساتھیوں کی سزا کو بھی برقرار رکھا ہے۔ مرسی پر اپریل سن دو ہزار پندرہ میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران پرتشدد مظاہروں کی سرپرستی کی تھی۔ مصر کے پہلے منتخب صدر کو جولائی 2013ء  میں ملکی فوج نے اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔

مرسی کے حامی عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کے باہر موجود تھے، تاہم سخت سکیورٹی کے باعث کسی ناخوش گوار واقعے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ مرسی کے حامی اور ملک کی اسلام پسند جماعتیں اس عدالتی کارروائی اور سابق صدر کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مصر میں فوجی حکومت کی کارروائیوں اور عدالتی کارروائی کی شفافیت پر نکتہ چیں رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب سابق صدر کو عدالت نے سزا سنائی ہو۔ ان کو موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ واضح رہے کہ مرسی سن دو ہزار بارہ میں اس وقت اقتدار میں آئے تھے جب ان کو عوامی ووٹوں کے ذریعے چنا گیا تھا۔ اس سے قبل سابق آمر حسنی مبارک کے خلاف ملک گیر پیمانے پر عوامی احتجاج اور جمہوری تحریک کا آغاز ہو چکا تھا۔ تاہم قدامت پسند نظریات کے حامل محمد مرسی کو فوج نے سن دو ہزار تیرہ میں اقتدار سے معزول کر دیا، جس کے بعد فوجی قیادت نے مرسی کے حامیوں اور دائیں بازو کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک اخوان کے کئی رہنماؤں کو سزائیں دی جا چکی ہیں اور جماعت کے کارکنان زیر عتاب ہیں۔

مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملکی فوجی قیادت دانستہ طور پر اخوان اور اس کی قریبی جماعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرسی اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔

تاہم مرسی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد مصر کے حالات ابتر ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق فوجی حکومت طاقت کے ذریعے مسائل پر قابو پانا چاہتی ہے تاہم سیاسی خلا کے باعث جہادی تنظیموں، بہ شمول ’اسلامک اسٹیٹ‘، جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، کو مصر میں قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے۔