مصر: ′می ٹو′ کیس میں ایک شخص کو آٹھ برس کی قید | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مصر: 'می ٹو' کیس میں ایک شخص کو آٹھ برس کی قید

مصر کی ایک عدالت نے جنسی زیادتی سے متعلق 'می ٹو' کیس کے ایک ملزم احمد بسّام ذکی کو دوبارہ سزا سنائی ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے 11 اپریل اتوار کے روز ایک شخص کو جنسی ہراسانی اور منشیات رکھنے کے جرم میں آٹھ برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس کا تعلق اس ''می ٹو'' مہم سے تھا جس نے مصر میں اس مہم کو نئی تقویت دی تھی۔

احمد بسام ذکی، مصر کے بہترین اسکولوں سے تعلیم یافتہ ہیں جنہیں اس سے پہلے بھی جنسی ہراسانی کے ایک معاملے میں عدالت نے تین برس قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

متاثرہ خاتون کے وکیل احمد راغب نے سوشل میڈیا فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ عدالت نے نئے کیس میں انہیں جنسی حملے کے لیے سات برس جبکہ منشیات رکھنے کے جرم میں ایک برس قید کی سزا سنائی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹیڈ پریس نے عدالتی دستاویزات کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جب مبینہ جرائم سرزد ہوئے تو اس وقت متاثرہ  خواتین سے بعض کم عمر کی بھی تھیں۔  تاہم اس فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

احمد بسّام ذکی کے خلاف کیس کیا ہے؟

 گزشتہ برس بسّام کے ہائی اسکول کے بہت سے ساتھیوں اور قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی کے بعض دوسرے طلبہ کی جانب سے ان کے خلاف آن لائن الزامات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ گزشتہ برس دسمبر میں سائبر جرائم کی ایک خصوصی عدالت نے دو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے لیے انہیں تین برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ذکی کو گزشتہ چار جولائی کو رہا کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک کم عمر لڑکی سمیت چھ خواتین کو بلیک میل کرنے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:02

بھارت میں ’ازدواجی جنسی زیادتی‘ ایک بڑا مسئلہ

اس سے متعلق ایسو سی ایشن نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ذکی عام طور پر آن لائن گروپس اور دوستوں کی لسٹ کی مدد سے لڑکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے انہیں تلاش کرتے رہتے تھے۔

ان کے خلاف ایسے دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ آن لائن خواتین اور لڑکیوں سے دوستی کرنے کے بعد پہلے فلرٹ کرتے پھر ان پر ان کی نجی تصاویر شیئر کرنے کا دباؤ ڈلتے۔ تصویریں ملنے کے بعد اگر وہ خواتین ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں کرتیں تو وہ انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

متاثرین کو پلیٹ فارم مل گیا

مصر کی ایک کارکن ندین اشرف نے ''اسلاٹ پولیس'' کے نام سے ایک آن لائن انسٹا گرام اکاؤنٹ بنایا تھا تاکہ متاثرہ افراد اس حوالے سے راز دارانہ طور پر جنسی ہراسانی اور استحصال کے اپنے تجربات شیئر کر سکیں۔

انہوں نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ''آج کے فیصلے سے میں بہت خوش ہوں کیونکہ ہم نے اس پر بہت کام کیا تھا اور اب ہمیں اس کے ثمرات مل رہے ہیں۔“

ندین اشرف کا کہنا تھا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں اپنے بہت سے دوستو ں سے اس طرح کے ہراساں کرنے کے کیسز کے بارے میں سننے کے بعد یہ مہم شروع کی تھی۔ اس اسلاٹ پولیس اکاؤنٹ نے مصر میں کئی دیگر جنسی ہراسانی کے واقعات کو بھی اجاگر کرنے میں مدد کی ہے۔

سن 2013 میں اقوام متحدہ کے ایک جائزے میں 99 اعشاریہ تین فیصد مصری خواتین اپنے ساتھ جنسی زیادتی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

 

ص ز/ ج ا   (اے ایف پی، اے پی، روئٹرز)  

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات