مصر میں ساڑھے چار ہزار برس پرانا مقبرہ دریافت | معاشرہ | DW | 16.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مصر میں ساڑھے چار ہزار برس پرانا مقبرہ دریافت

مصری ماہرین آثارِ قدیمہ نے چار ہزار چار سو برس پرانا ایک مقبرہ دریافت کیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اس دور کے شاہی خاندان کے ساتھ وابستہ پادری کا ہے۔

اس مقربے کی دیورایں رنگ بہ رنگے مناظر سے مرصع ہیں، جس میں اس مقبرے کے مالک کو اپنے اہل  خانہ کے ساتھ بھی دکھایا گیا ہے۔

ہفتے کے روز اس مقبرے کی دریافت کا اعلان مصری وزیر نوادرات نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقبرے میں مجمسے اور پتھروں پر کنداں تحریریں اور تصویریں بھی ملی ہیں۔ یہ مقبرہ ویحت پادری کا ہے جسے قاہرہ کے جنوب میں ساقارا کے علاقے میں دریافت کیا گیا۔

پچیس سو سال پرانے تابوت سے حنوط شدہ لاش برآمد

تین ہزار سال بعد پہلی مرتبہ ایک شخص کو حنوط کر دیا گیا

مصری وزیرنوادرات خالد العنانی نے بتایا کہ اس مقبرے کی دیواروں پر اس پادری کی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ’تصاویر‘ غیرمعمولی حد تک بہتر حالت میں ہیں۔

العنانی نے مزید بتایا کہ چار ہزار چار سو برس پرانے اس مقبرے میں استعمال ہونے والا رنگ اچھی حالت میں ہے۔ اس کے علاوہ اس مقبرے میں 45 مجسمے ملے ہیں، جو بہترین حالت میں ہیں۔ یہ مجسمے پادری ویحتے اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے ہیں۔

العنانی نے بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے ایک ایسا مقبرہ دریافت کیا ہے، جسے نہ تو کسی نے چھوا تھا اور نہ وہاں لوٹ مار ہوئی تھی۔

ماہرین آثارِ قدیمہ کو توقع ہے کہ جنوری میں شروع ہونے والی نئی کھدائی میں اس علاقے میں مزید مقبرے دریافت ہو سکتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 04:26

قدیم مصری خاتون کی حنوط شدہ لاش

بتایا گیا ہے کہ یہ مقبرہ فراعینِ مصر کے عہد کا ہے اور اس وقت نیفریرکارے بادشاہ کی حکومت تھی۔ واضح رہے کہ قدیم مصر میں ساقارا کا علاقہ مرکز تھا اور یہ ایک طرح سے فراعین مصر کے عہد میں قریب دو ہزار برس تک ’دارالحکومت‘ کے بہ طور قائم رہا۔

رواں برس مصر میں ایک درجن سے زائد دریافتیں ہوئی ہیں اور قاہرہ حکومت کو توقع ہے کہ اس سے اس کے ہاں سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ سن 2011ء میں مصر میں انقلاب کے بعد سے اس ملک کی اقتصادی حالت زبوں حالی کا شکار ہے۔

چیز ونٹر، ع ت، الف الف

DW.COM

Audios and videos on the topic