مصر میں تاریخی پارلیمانی انتخابات کا آغاز | حالات حاضرہ | DW | 28.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں تاریخی پارلیمانی انتخابات کا آغاز

عرب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شمالی افریقی ملک مصر میں آج پیر 28 نومبر سے صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے دستبرداری کی وجہ بننے والے انقلاب کے بعد پہلے آزادانہ لیکن مرحلہ وار جمہوری انتخابات کا انعقاد شروع ہو گیا ہے۔

default

قاہرہ میں خواتین کے ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر جمع ‌ووٹرز

اس طویل پارلیمانی انتخابی عمل کو ماہرین کافی حد تک غیر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران اور پر تشدد مظاہروں سے عبارت الیکشن قرار دے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اگلے سال مارچ میں مکمل ہونے والے اس انتخابی عمل کے نتیجے میں مصر میں ایک حقیقی جمہوری ریاست قائم ہو سکے گی۔

مصر میں آج سے شروع ہونے والا تین مراحل پر مشتمل پارلیمانی انتخابی عمل اسی طرح انتشار کا شکار ہے، جس طرح مصری سیاست۔ تین عشروں سے بھی زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے والے حسنی مبارک کا دور حکومت دس مہینے پہلے اس عوامی احتجاجی تحریک کے دوران اپنے اختتام کو پہنچا تھا، جو خطے میں ’عرب اسپرنگ‘ کہلانے والی انقلابی تبدیلیوں کے دوران ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوئی۔

اب 80 ملین سے زائد کی آبادی والے مصر میں 40 ملین کے قریب رائے دہندگان کو نئی ملکی پارلیمان منتخب کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ لیکن وہاں پائی جانے والی سیاسی کشیدگی اپنی جگہ ہے۔

Ägypten Wahlen Parlament Kairo

پولنگ اسٹیشنوں اور ان کے نواح میں سکیورٹی کے لیے پولیس اور فوج کے دستے متعین تھے

گزشتہ ہفتے ملک کے عبوری فوجی حکمرانوں کے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں مختلف شہروں میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور تین ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

پارلیمانی ایوان زیریں کے لیے رائے دہی کے پہلے دو روزہ مرحلے میں قاہرہ، اسکندریہ اور چند دیگر بڑے شہروں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس بہت پیچیدہ انتخابی عمل کے نتیجے میں نئی پارلیمان اگلے سال مارچ میں وجود میں آ سکے گی۔

ووٹنگ کے آغاز پر آج کئی انتخابی مراکز پر رائے دہندگان کے ہجوم نظر آئے۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے ووٹر تھے، جو یا تو پہلی مرتبہ ووٹ دے رہے تھے یا جنہوں نے پہلے کبھی حقیقی جمہوری الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ایسی ہی ایک خاتون شہری مونا عبدالمنیم نے قاہرہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس مصری خاتون کے بقول پہلے عوام کی سیاسی آواز بالکل نہیں سنی جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

ان انتخابات کے دوران مقامی وقت کے مطابق پیر کی سہ پہر تک انتخابی ماحول پر سکون رہا کیونکہ انتخابی مراکز اور ان کے گرد و نواح میں پولیس اور فوج کے دستے متعین ہیں۔ چند پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ بروقت شروع نہ ہو سکی کیونکہ انتخابی مبصرین کے وہاں پہنچنے میں کچھ تاخیر ہو گئی تھی۔

ان انتخابات کے بارے میں عام مصری شہریوں کی رائے کیا ہے، اس کی ایک مثال ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر اسکندریہ کے رہنے والے ایک 25 سالہ سافٹ ویئر انجینئر یوسف کا یہ بیان تھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ مصر کے مستقبل کے لیے اپنا ووٹ دے رہا ہے۔ یوسف نے کہا کہ موجودہ انتخابات مصر کے پہلے آزادانہ انتخابات ہیں اور وہ امید کرتا ہے کہ یہ عمل قطعی غیر جانبداری سے مکمل کیا جائے گا۔

انتخابات کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے آج مصر کے 75 سالہ عبوری حکمران، فیلڈ مارشل حسین طنطاوی نے کئی انتخابی مراکز کا دورہ کیا۔

پہلے حسنی مبارک اور ابھی حال ہی میں قاہرہ کے تحریر چوک میں فوجی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مصری مظاہرین اس بارے میں تقسیم کا شکار ہیں کہ آیا انہیں آج سے شروع ہونے والے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ لیکن اسلام پسند اخوان المسلمون نامی جماعت اس الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور اسے اپنی انتخابی کامیابی کی امید بھی ہے۔

مصر میں موجودہ الیکشن کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا انعقاد 14 دسمبر اور تین جنوری کو ہو گا۔ 29 جنوری کو پارلیمانی ایوان بالا کے الیکشن ہوں گے اور اگلے سال جون کے آخر تک صدارتی انتخابات کا انعقاد بھی طے ہے۔

رپورٹ: وکٹوریہ کلیبر / مقبول ملک / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

اشتہار