مصر، فرعون کے دور کا ایک اہم قبرستان دریافت | فن و ثقافت | DW | 24.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

مصر، فرعون کے دور کا ایک اہم قبرستان دریافت

مصر کے جنوبی علاقے میں ایک قدیمی قبرستان کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس دریافت سے قدیمی مصری تہذیب کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی۔

خبررساں ادارے ڈی پی اے نے مصری وزیر برائے عہد قدیم خالد العینی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ کو جنوبی شہر المینا میں ایک قدیمی قبرستان کی باقیات ملی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وسیع وعریض رقبے پر پھیلے ہوئے اس قبرستان سے سونے کا ایک تاج، چالیس تابوت اور ایک ہزار کے قریب مجسموں کے علاوہ برتن، زیورات اور دیگر اہم سازوسامان کے حصے بھی ملے ہیں۔

مصر میں خاتون راہبہ کا ساڑھے چار ہزار سال پرانا مقبرہ برآمد

’رعمسیس دوم کے تاریخی مجسمے کے مزید حصے برآمد‘

فرعون توتان خامون کی لاش کے سنہری ماسک کی مرمت شروع

ویڈیو دیکھیے 04:24

’مکلی کے قبرستان کو ثقافتی ورثے سے نکالے جانے کا خطرہ موجود‘

بتایا گیا ہے کہ یہ قدیمی قبرستان تونہ الجبل سے چار کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔ العینی کے بقول، ’’یہ دریافت صرف ایک شروعات ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس قبرستان میں موجود اشیا کو نکالنے اور ان کے تجزیے کے لیے پانچ سال درکار ہوں گے۔‘‘

المنیا میں اس قبرستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے العینی نے مزید بتایا کہ اس مقام پر سن دو ہزار سترہ میں کھدائی کا کام شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں جرمن شہروں میونخ اور ہلڈس ہائم کے ماہرین آثار قدیمہ کے علاوہ مصری ماہرین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دریافت انتہائی اہم ہے اور اس سے مصری تہذیب کے کئی ایسے پہلو اجاگر ہوں گے، جو غالبا ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔

حالیہ کچھ مہینوں کے دوران مصر میں ایسے کئی اہم قدیمی مقامات کی دریافت ہوئی ہے۔ ان میں جنوبی شہر الاقصر میں ملنے والے مقبرے بھی شامل ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز پر ماہرین آثار قدیمہ نے چار ہزار چار سو سال پرانے ایک مقبرے کی دریافت بھی کی تھی۔

دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع گیزا کے معروف اہرام کے قریب ہی ملنے والا یہ مقبرہ فرعون دور کی ایک راہبہ کا تھا۔ مصری وزیر برائے آثار کے مطابق ’ہیت پت‘ نامی اس خاتون کا تعلق فراعین کے خاندان کی پانچویں نسل سے تھا۔

مصری حکومت انہی اہرام کے قریب ایک اہم میوزیم بھی تعمیر کر رہی ہے، جو رواں برس کے اختتام تک لوگوں کے لیے جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ مصری معیشت کا بڑا حصہ سیاحت پر انحصار کرتا ہے، اس لیے قاہرہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس صنعت کو زیادہ بہتر بنایا جائے۔

سن دو ہزار گیارہ میں عرب اسپرنگ کے نتیجے میں صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد اس شمالی افریقی ملک میں بدامنی پھیل گئی تھی، جس کے نتیجے میں مصر میں سیاحت کو بھی نقصان ہوا تھا۔ تاہم اب مصر کے حالات میں بہتری کے نتیجے میں غیر ملکی سیاح ایک مرتبہ پھر وہاں کا رخ کرنے لگے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic