مشرق وسطیٰ میں طاقت کی جنگ کا فاتح ایران؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مشرق وسطیٰ میں طاقت کی جنگ کا فاتح ایران؟

شامی خانہ جنگی، یمن کی جنگ اور آبنائے ہرمز: مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلتا جا رہا ہے۔ ایران نے ان تبدیلیوں کو بڑی دانش مندی سے اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور تہران خطے میں قائدانہ کردار کے حامل نئی طاقت بن سکتا ہے۔

دائیں سے بائیں: روسی صدر ولادیمیر پوٹن، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ایرانی صدر حسن روحانی

دائیں سے بائیں: روسی صدر ولادیمیر پوٹن، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ایرانی صدر حسن روحانی

امریکا عسکری حوالے سے شمالی شام سے نکل چکا ہے لیکن سفارتی میدان وہ اب بھی موجود ہے۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ بات چیت کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا کہ ترکی شمالی شام میں اپنی فوجی کارروائیوں میں پانچ روزہ فائر بندی پر تیار ہے۔

شامی کردوں کے مطابق یہ فائر بندی اگرچہ عملاﹰ وہ نہیں ہو گی، جس کی کہ انقرہ میں ترک کابینہ نے حمایت کی ہے تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ ترک صدر ایردوآن کا یہ اعلان صرف امریکا کی کافی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد ہی ممکن ہو سکا۔

جو بات واضح نہیں، وہ یہ ہے کہ آیا اس فائر بندی اعلان کا واقعی احترام بھی کیا جائے گا؟ غیر واضح تو یہ بات بھی ہے کہ آیا وائٹ ہاؤس کی سوچ یہ ہے کہ نائب صدر مائیک پینس کا دورہ ترکی اس خطے میں امریکا کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کا ایک نیا مرحلہ تھا یا شاید وہ آخری کوشش جس کا مقصد یہ تھا کہ شمالی شام سے امریکی فوجی انخلاء کم از کم بہت جلدی میں کیا جانے والا کوئی اسٹریٹیجک فیصلہ ثابت نہ ہو۔

Syriens Machthaber Bashar Assad besucht Ayatollah Ali Khamenei, den Führer der Islamischen Republik Iran

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور شامی صدر بشارالاسد

لیکن یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنی کوششیں واضح طور پر اور اس طرح کم کر دی ہیں کہ ان کے بعد شروع ہونے والے ضمنی اثرات کا سلسلہ بھی اب کافی طویل ہو چکا ہے۔ ان ضمنی اثرات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب خطے میں نئے اتحاد اور طاقت کے نئے مرکز قائم ہونے لگے ہیں۔ بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ خطے کی کوئی بھی دوسری ریاست اس امر کی ایران سے زیادہ قائل نظر نہیں آتی کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات کو اپنے حق میں استعال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

ایران کی نئی خود اعتمادی

چودہ ستمبر کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ کیے جانے والے حملوں کی ذمے داری اگرچہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے قبول کر لی تھی تاہم سعودی عرب اور امریکا نے الزام ایران پر ہی لگایا تھا، جس کی تہران کی طرف سے بھرپور تردید بھی کر دی گئی تھی۔

اس تردید کے باوجود اس سلسلے ایران کے ناقدین کا تہران پر شک و شبہ مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوا تھا۔

اس پس منظر میں ایک بات بالکل واضح ہے، اسرائیلی اخبار 'ہاریٹس‘ کے مطابق ایران نے اگر ان حملوں کا سچ مچ حکم دیا تھا، تو اس نے ایسا واقعی بہت زیادہ خود اعتمادی کے احساس کے ساتھ ہی کیا ہو گا۔

'ہاریٹس‘ لکھتا ہے، ''ایران نے سعودی عرب پر یہ حملے اس لیے نہیں کروائے ہوں گے کہ یہ تہران کی طرف سے اس کی کوئی نئی سیاسی پالیسی ہے یا اسے کوئی نیا ہتھیار مل گیا ہے، بلکہ محض اس وجہ سے کہ تہران کو علم تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے ایک قریبی اتحادی ملک کے طور پر سعودی عرب کے بہت قریب نہیں کھڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘

سعودی امریکی عسکری اتحاد میں مضبوطی کے بجائے نرمی کے آثار تو کافی عرصے سے نظر آنا شروع ہو چکے تھے۔ امریکا کی طرف سے خلیج کے علاقے میں بھیجے جانے والے بحری بیڑے کی طرف سے بہت پرسکون رویہ ظاہر کیا جائے گا، یہ بات تہران کے لیے تقریباﹰ واضح ہی تھی۔

ایرانی قیادت نے یہ بات بھی تفصیلی مشاہدے کے بعد محسوس کر لی تھی کہ ترکی میں سعودی عرب کے منحرف شہری اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور اس سے قبل یمن کی جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کو اس کی قیمت امریکی کانگریس میں اپنے لیے پائی جانے والی ہمدردیوں میں بہت زیادہ کمی کی صورت میں چکانا پڑی تھی۔

شامی تنازعے سے متعلق واضح سوچ کی کمی

ایران شام میں امریکا کی کمزوریوں پر بھی قریب سے نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ تہران کی رائے میں امریکا کے پاس جنگ سے تباہ شدہ شام کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہی نہیں۔ اس کے برعکس آج شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے اگر روس اور ایران سیاسی فاتح نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شروع سے ہی مشرق وسطیٰ کی اس ریاست سے متعلق ایک نپی تلی اور مستقل پالیسی اپنا رکھی ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے شائع ہونے والے جریدے 'فارن پالیسی‘ کے مطابق، ''روس اور ایران نے شامی خانہ جنگی کے حوالے سے شروع سے ہی ایک واضح، محدود اور قابل عمل سوچ اپنا رکھی ہے۔

ان کا مقصد یہ تھا کہ صدر بشارالاسد کو ہر حال میں اقتدار میں رہنا چاہیے۔‘‘ اس سوچ کا نتیجہ یہ کہ اسد آج بھی اقتدار میں ہیں اور روس اور ایران بھی شام میں موجود ہیں اور آئندہ بھی اس بات کا نظر انداز کیا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ روس اور ایران شام میں ہی رہیں گے۔

دمشق میں بھی فیصلہ ساز قوتیں

روس اور ایران کا دمشق حکومت پر اثر اتنا زیادہ ہے کہ وہ ایسے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جن کے اثرات یورپ تک میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

اسد حکومت کا کوئی آئندہ فیصلہ کیا ہو گا، کب انتظار کیا جائے گا، کب کوئی بڑا فیصلہ سامنے آئے گا اور کردوں کے معاملے میں ترکی کی فوجی مداخلت کے بعد شمالی شام کے بارے میں دمشق حکومت کا اگلا اقدام کیا ہو گا، یہ سب فیصلے دمشق میں خود صدر اسد اکیلے نہیں کرتے۔

ایران خطے میں اپنی عسکری طاقت کے اسی احساس کے ساتھ اب اس بات کا متحمل بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی ہمسایہ ریاستوں اور علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ طرز عمل اپنائے رکھے۔ انہی عوامل اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھیں تو یہ سوال غیر منطقی محسوس نہیں ہوتا کہ آیا مشرق وسطیٰ میں طاقت اور اثر و رسوخ کی جنگ ایران جیت چکا ہے؟

کَیرسٹن کنِپ (م م / ش ح)

DW.COM