مشرق وسطیٰ: مقبول ترین موبائل ایپ ’جاسوسی کا آلہ‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مشرق وسطیٰ: مقبول ترین موبائل ایپ ’جاسوسی کا آلہ‘

مشرقی وسطیٰ میں تحریر اور ویڈیو میسیجز کی ایک مقبول ترین موبائل ایپ ’ٹوٹاک‘ کو لاکھوں صارفین کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان خبروں کے بعد ایپل اور گوگل نے یو اے ای میں بنائی گئی اس ایپ کو ہٹا دیا ہے۔

سائیبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ٹوٹاک‘ ایپ اس انداز سے ڈیزائن کی گئی ہے کہ پیچھے سے کچھ کیے بغیر ہی صارف کی نقل و حرکت اور اس کی تمام باتوں کی با آسانی جاسوسی کی جا سکتی ہے۔ اس سے متعلق معروف اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اتوار کو ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں اس ایپ کو ’جاسوسی کا آلہ‘ قرار دیا گيا تھا۔

اخبار  کا کہنا ہے کہ کو ئی بھی شخص، جو اس ایپ کو اپنے فون میں انسٹال کرے، اس کی نقل و حرکت، تمام بات چیت، تعلقات، اپوائنٹمنٹس، آواز اور تصاویر جیسی تمام چیزوں کو ب آسانی ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ اخبار نے اس بارے ميں امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ان حکام کا حوالہ بھی دیا، جن کو خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔     

یہ ایپ متحدہ عرب امارت،  یورپ امریکا اور خاص طور پر مشرق وسطی سمیت کئی خطوں میں کثرت سے استعمال ہوتی رہی ہے، جو اب بعض فونز میں عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے۔ دوسری جانب گوگل اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں نے اس رپورٹ کے بعد اس ایپ کو اپنے ڈاؤنلوڈ اسٹورز سے ہٹا دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اسکائپ اور واٹس ایپ جیسی کئی دیگر ایپس پر پابندی عائد ہے، اس لیے بیشتر مقامی لوگوں میں متبادل کے طور پر یہ ’ٹوٹاک‘ کافی مقبول ہے۔  اتوار کے روز ’ٹوٹاک‘ نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گيا تھا کہ بعض تکنیکی خرابیوں کے سبب اس کے اسٹور میں عارضی طور پر یہ ایپ اب دستیاب نہیں ہے۔ لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا کہ سیمسنگ، ہواوے اور زیاؤمی جیسے فون میں یہ اب بھی دستیاب ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اس سے متعلق سائیبر سکیورٹی کے معروف محقق پیٹرک وارڈلے سے بات چیت کی تھی۔ مسٹر پیٹرک نے اس پر اپنا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ’ٹوٹاک‘ وہی کرتی ہے، جس کے لیے اسے ڈیزائن کیا گيا ہے۔

ان کے مطابق، ’’مان لیجیے کہ ٹوٹاک حقیقی معنوں میں صارفین کی جاسوسی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، تو یہ ایپ ’جائز طور پر‘ کسی بیرونی عمل دخل کے بغیر عوام کی نگرانی کے کام کے لیے بہت اچھی ہے۔‘‘

ز ص / ا ا (اے ایف پی، روئٹرز)