مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں، نیتن یاہو | حالات حاضرہ | DW | 06.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اُن کا ملک مشرق وسطیٰ میں تعلقات کے پھیلاؤ کو جاری ر کھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اس عمل کا حصہ نہیں ہے۔

 اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے دائرے کو وسیع کرنے کا عندیہ یروشلم میں سفارت کاروں کی ایک کانفرنس میں دیا۔ انہوں نے اس کانفرنس میں اپنے سب سے بڑے مخالف ملک ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ علاقائی صورت حال کو اپنے غلبے میں لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے۔

اسرائیل اور سعودی عرب: مشرق وسطٰی میں نئے بہترین دوست؟

یورپ خطرہ بنا تو بیلسٹک میزائلوں کی رینج بڑھا دیں گے، ایران

عراق اور سعودی عرب میں قربت سے ایران پر کیا اثر پڑے گا؟

سعودی عرب ایران کی طاقت سے خبردار رہے، صدر روحانی

نیتن یاہو نے کانفرنس میں واضع کیا کہ مشرق وسطیٰ کے اُن ملکوں سے بھی تعلقات استوار ہیں جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو باقاعد طور پر ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہوا۔ انہوں نے اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی کہ یہ اِن ملکوں کی اقتصادی اور سلامتی کی ضروریات کے تناظر میں ہے۔

کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کے نقشے پر سرخ دائرے کے ملک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سرخ دائرے والا ملک اُن کے سفارتی اتحادیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے ایران کو ایک جارح حکومت رکھنے والا ملک قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق یہ ملک جوہری ہتھیار سازی کا متمنی ہے اور بحیرہ روم کے سمندری راستے کے ذریعے اپنے اتحادی ملکوں کے ساتھ تعلقات کا پُل قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔

Griechenland Athen Iran's Arash Miresmaeli trägt Flagge OLYMPICS IRAN ISRAEL JUDO WITHDRAWAL (picture-alliance/AP Photo/H. Sar)

اسرائیلی وزیراعظم نے نے ایران کو ایک جارح حکومت رکھنے والا ملک قرار دیا ہے

اسی کانفرنس میں بینجمن نیتن یاہو نے اپنے ملک کی اقتصادی قوت کے تناظر میں بین الاقوامی رابطوں پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی و اسرائیلی تعلقات کی اہمیت اور افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس تقریر میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ممکنہ اعلان کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر بدھ چھ دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس ممکنہ اعلان پر عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، روس اور چین نے اپنی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

DW.COM

اشتہار