مشتبہ دہشت گردوں کو دیکھتے ہی گولی ماری جا سکتی ہے، روسی صدر | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشتبہ دہشت گردوں کو دیکھتے ہی گولی ماری جا سکتی ہے، روسی صدر

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ مسلح مجرموں اور مشتبہ دہشت گردوں کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے بم دھماکے کو بھی ’دہشت گردانہ کارروائی‘ قرار دیا۔

روسی صدر نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ملکی سکیورٹی فورسز کو احکامات دیے ہیں کہ ایسے مسلح مجرمان، جو گرفتاری میں مزاحمت کریں، انہیں موقع پر ہی ہلاک کر دیا جائے۔ پوٹن کی جانب سے یہ بیان بدھ کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک سپرمارکٹ کے باہر نصب ایک دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں 14 افراد کے زخمی ہونے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ صدر پوٹن کا تعلق بھی سینٹ پیٹرزبرگ شہر ہی سے ہے۔

شام میں داعش کی شکست: روس کا کردار کلیدی تھا، صدر پوٹن

شام میں روسی فوجی اڈے مستقل بنیادوں پر ہیں، پوٹن

یروشلم کے معاملے پر ایردوآن اور پوٹن کی گفتگو

شام میں روسی عسکری کارروائیوں میں شریک فوجیوں کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوٹن نے کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سینٹ پیٹرز برگ میں گزشتہ روز دہشت گردی کا ایک واقعہ رونما ہوا۔ اس کے بعد ملک کی سکیورٹی سروسز کو احکامات دیے گئے ہیں کہ مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور اگر کوئی مجرم مزاحمت کرے، تو اسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا جائے۔‘‘

اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پوٹن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ صدر نے یہ بیان ان تمام افراد کی بابت دیا ہے، جو ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ میں زخمی ہونے والے 14 افراد میں سے چھ اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے مالی معاونت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

یہ دھماکا ایک ایسے موقع پر ہوا، جب روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی نے رواں ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ سینٹ پیٹرزبرگ کے اہم آرتھوڈوکس کیتھیڈرل پر دہشت گردانہ حملے کا ایک منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بھی روس کی مدد کی تھی اور اسی تناظر میں پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

DW.COM

اشتہار