مسیحی فرقے کو شدت پسند قرار دینے کا روسی عدالتی فیصلہ برقرار | حالات حاضرہ | DW | 18.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسیحی فرقے کو شدت پسند قرار دینے کا روسی عدالتی فیصلہ برقرار

روسی سپریم کورٹ نے حکم سنایا ہے کہ ایک ذیلی عدالت کا ایک مسیحی فرقے کو شدت پسند قرار دینے کا فیصلہ درست ہے۔ یہ فیصلہ مسیحیوں کے ’شاہدان یھوہ‘ نامی اس فرقے کے بارے میں سنایا گیا ہے، جس پر روس میں ملک گیر پابندی عائد ہے۔

default

جرمن شہر میونخ میں ’شاہدان یھوہ‘ کی رکن ایک مسیحی خاتون اپنی تنظیم کا ایک پلے کارڈ لیے ہوئے

روسی دارالحکومت ماسکو سے منگل اٹھارہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پیر سترہ جولائی کی شام روسی سپریم کورٹ نے ایک سماعت کے دوران وہ اپیل مسترد کر دی، جس میں Jehovah's Witnesses یا ’یھوہ کے گواہان‘ نامی مسیحی فرقے کی طرف سے روس میں خود پر لگائی گئی قانونی پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

Zeugen Jehovas Wachturm

’شاہدان یھوہ‘ کا مذہبی رسالہ جو مفت تقسیم کیا جاتا ہے، یہ رسالہ قریب سو زبانوں میں شائع کیا جاتا یے

روسی سپریم کورٹ کے اپیلز چیمبر نے اس مقدمے میں ایک ذیلی عدالت کی طرف سے اس گزشتہ منظوری کو جائز قرار دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس سال اپریل میں ملکی وزارت انصاف کی طرف سے اس مسیحی عقیدے کے افراد اور ان کی نمائندہ تنظیم پر لگائی جانے والی پابندی حق بجانب تھی۔

یوں روس کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی اب مسیحیوں کے اس فرقے کو ایک شدت پسند تنظیم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد اس فرقے کی پورے روس میں تمام 395 شاخوں کو قانونی طور پر تحلیل کیا جا سکتا ہے اور ماسکو حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اس فرقے کی روس میں تمام املاک ضبط کر لے۔

’شاہدان یھوہ‘ کے مطابق روس میں اس عقیدے کے پیروکار مسیحیوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے۔ ماسکو میں ملکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں ’یھوہ کے گواہان‘ کے ترجمان ڈیوڈ سیمونیئن نے کہا، ’’یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ بہت زیادہ شواہد پیش کیے جانے کے باوجود روس میں طاقت ور عناصر نے ہماری تنظیم کو ابھی بھی انتہا پسند قرار دے رہے ہیں۔‘‘

فلپائن میں ’مسلم شناختی کارڈ‘ کے اجراء کی تجویز پر شدید غصہ

پوپ نے دینی شعبے کے سربراہ کو برخاست کر دیا

مسیحیت میں اصلاحات کے پانچ سو سال، جرمنی میں عالمی اجتماع

روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق ملکی سپریم کورٹ میں اس مسیحی فرقے کی نمائندگی کرنے والے وکیل وکٹور ژَینکوف نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف یورپی سطح پر انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

Russland Eröffnung des Fürst-Wladimir-Denkmals in Moskau

روسی آرتھوڈوکس کلیسا کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما، دائیں، کی روسی صدر پوٹن، درمیان میں، اور وزیر اعظم میدویدیف کے ساتھ ایک تصویر

بم کو ماں سے منسوب کرنا مناسب نہیں، پوپ فرانسس

’شاہدان یھوہ‘ مسیحی عقیدے کا ایک ایسا ذیلی اور کافی حد تک تبلیغی فرقہ ہے جس کے ارکان مختلف یورپی ملکوں کے شہروں میں عوامی مقامات پر خاموشی سے کھڑے یا عام شہریوں کے گھروں پر جا کر ان کو اپنی تنظیم میں شمولیت کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔

روس میں، جہاں روسی آرتھوڈوکس مسیحی عقیدے کے پیروکار افراد کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، آرتھوڈوکس کلیسا اور ’شاہدان یھوہ‘ کے مابین مذہبی نظریات کے لحاظ سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ’شاہدان یھوہ‘ کے پیروکار مسیحیوں کی تعداد کئی ملین ہے۔

DW.COM

اشتہار