مسلمان ہولوکاسٹ کو کس نگاہ سے ديکھتے ہيں؟ | معاشرہ | DW | 19.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مسلمان ہولوکاسٹ کو کس نگاہ سے ديکھتے ہيں؟

پولينڈ ميں سابقہ نازی دور کے اذيتی مرکز آؤشوٹس کی ’ريڈ آرمی‘ کی آزادی کو 75 برس مکمل ہو رہے ہيں۔ اس موقع پر مسلمانوں اور يہوديوں کا ايک خصوصی وفد اس تاريخی مقام کا دورہ کر رہا ہے۔

مسلم رہنما شاز و نادر ہی ايسے مقامات کا دورہ کرتے ہيں جہاں تاريخ کے بد ترين مظالم ڈھائے گئے۔ پولينڈ ميں آؤشوٹس کے سابقہ اذيتی مرکز کے ڈائريکٹر پٹور سيونسکی کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر  2.3 ملين افراد نے اس يادگار مقام کا دورہ کيا۔ انہوں نے بتايا کہ ان افراد ميں عرب دنيا سے آنے والوں کی تعداد کافی محدود تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق تقريباً 3,200 مہمان عرب ملکوں سے تھے۔ ڈائریکٹر کے مطابق فرانس، نارويجين اور جرمن گروپوں ميں بھی مسلم افراد آؤشوٹس کا دورہ کرتے ہيں۔ سيونسکی کو يقين ہے کہ اس مقام کا دورہ ان کے ليے ايک منفرد تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

آؤشوٹس کے سابقہ اذيتی مرکز ميں نازيوں نے 1.1 ملين افراد کو قتل کيا تھا جن کی بھاری اکثريت يہوديوں پر مشتمل تھی۔ آئندہ ہفتے اس کيمپ کی آزادی کے پچھتر برس مکمل ہو رہے ہيں۔ جمعرات 21 جنوری کو يہودی اور مسلم کميونٹيز کے اعلٰی رہنما آؤشوٹس کا دورہ کر رہے ہيں۔ ان ميں محمد العيسٰی بھی شامل ہيں جو کہ مسلم ورلڈ ليگ (MWL) کے سيکرٹری جنرل ہيں۔ يہ تنظيم دنيا بھر ميں ايک بلين مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ يوں سابقہ سعودی وزير انصاف محمد العيسٰی آؤشوٹس کا دورہ کرنے والے سب سے اعلی سطحی مسلمان رہنما بن جائيں گے۔ العيسٰی يہ دورہ امريکن جيوئش کميٹی (AJC) کے ڈائريکٹر ڈيوڈ ہيرس کے ہمراہ کر رہے ہيں۔ پچھلے سال مئی ميں ہيرس اور العيسٰی نے ايک دوسرے سے رابطہ کيا اور يہ اعلان کيا کہ وہ جنوری سن 2020 ميں آؤشوٹس کے سابقہ اذيتی مرکز کا دورہ کريں گے۔ چون سالہ مسلم مفکر اور ہولوکاسٹ ميں بچ جانے والے يہوديوں کے خاندان کے ايک رکن کا يہ دورہ، علامتی لحاظ سے کافی اہميت کا حامل ہے۔

مئی 2018ء ميں محمد العيسٰی نے واشنگٹن ميں يو ايس ہولوکاسٹ ميوزم کا دورہ کرنے کے بعد ميوزيم کو ايک خط بھيجا جس ميں انہوں نے لکھا، ''ہولوکاسٹ کے متاثرين کے ساتھ اظہار يکجہتی۔ ايک ايسا واقعہ جس نے انسانيت کو ہلا کر رکھ ديا۔‘‘ العيسٰی نے مزيد لکھا کہ اسلام ايسے جرائم کے مکمل خلاف ہے: ''ہولوکاسٹ کو جھٹلانے يا اس کی تاريخی اہميت ميں کمی کی کسی بھی کوشش کو بے گناہ متاثرين کی توہين کے مساوی ہے۔‘‘

بعد ازاں مسلم ورلڈ ليگ کے سيکرٹری جنرل محمد العيسٰی نے واشنگٹن پوسٹ ميں ايک اداريہ لکھا، جس ميں انہوں نے تمام مسلمانوں کو تلقين کی کہ وہ ہولوکاسٹ کی تاريخ پڑھيں اس ہول ناک تاريخی واقعے سے متعلق يادگاری مقامات اور ميوزيمز کا دورہ کريں۔ اس خط اور پھر اداريے کے بعد محمد العيسٰی کو ان گنت پيغامات اور خطوط موصول ہوئے، جن ميں دنيا بھی سے ديگر مسلم مفکروں اور دانشوروں نے يہوديوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور ہولوکاسٹ پر ان کے نقطہ نظر کی تائيد کی۔

العيسی کے خط اور اداريے کے رد عمل ميں ورلڈ جيوئش کانگريس کے سابق نائب صدر مارک شرائير نے بھی ايک اداريہ لکھا جس ميں انہوں نے کہا کہ اب بھی ايک جھوٹا اور غلط تاثر پايا جاتا ہے کہ مسلمان يہوديوں کے خلاف ہيں يا ان کے حوالے سے جارحانہ سوچ رکھتے ہيں۔ انہوں نے واضح کيا کہ جہاں کہيں بھی يہوديوں پر حملہ ہو، مسلمان افراد کھل کر اس کے خلاف بولتے ہيں اور اس کی مذمت کرتے ہيں۔

ع س، کرسٹوف اسٹراک / ا ب ا

DW.COM