’مسلمان‘ نامنظور، سلوواکیہ کا اعلان | معاشرہ | DW | 08.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’مسلمان‘ نامنظور، سلوواکیہ کا اعلان

سلوواکیہ کی جانب سے مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس مشرقی یورپی ملک نے مسلم مہاجرین کو پناہ نہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

سلوواکیہ کے وزیراعظم روبرٹ فیکو کے مطابق ان کی حکومت مستقبل میں پناہ گزینوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بھی شامل نہیں ہو گی۔ فیکو نے کثیر الثقافتی معاشرے کو صرف ایک’ تصور‘ ہی قرار دیا ہے۔ ان کے بقول وہ یہ نہیں چاہتے کہ سال نو کے موقع پر جرمنی میں خواتین پر جنسی حملوں اور پیرس میں فائرنگ جیسے واقعات اُن کے ملک میں رونما ہوں۔ ایسے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ایک مرتبہ مہاجرین کو پناہ دے دیں تو اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

فیکو مہاجرین کے مسئلے کو اپنی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ سلوواکیہ میں پانچ مارچ کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کی حکومت نے یورپی کمیشن کی جانب سے مہاجرین کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے۔

Slowakei Bratislava Premier Robert Fico Polizei

کو نے کثیر الثقافتی معاشرے کو صرف ایک’ تصور‘ ہی قرار دیا ہے

فیکو نے مزید کہا ’’یورپی یونین میں پناہ گزینوں کا کوٹہ مقرر کرنے کے خلاف کوششیں جاری رہیں گی‘‘۔ دارالحکومت براٹسلاوا میں انہوں نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم نہ صرف لازمی کوٹے کے خلاف ہیں بلکہ ہم کبھی بھی رضاکارانہ طور پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، جس سے سلوواکیہ میں متحد مسلم برادری کی تشکیل ہو سکے۔‘‘

سلوواکیہ میں مہاجرین کے بارے میں روبرٹ فیکو کے اس موقف کی تائید بڑھتی جا رہی ہے۔ کیتھولک مسیحیوں کی اکثریت والے اس ملک کی آبادی تقریباً ساڑھے پانچ ملین یا پچپن لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس ملک کو مہاجرین کے حوالے سے کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ملک ماضی میں کبھی بھی پناہ گزینوں کی منزل نہیں رہا۔ سلوواکیہ میں گزشتہ برس صرف 169 افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ تاہم یورپی کمیشن نے کوٹہ مقرر کرنے کی مہم کے تناظر میں براٹسلاوا حکام سے کہا تھا کہ وہ 802 افراد کو اپنے ہاں پناہ دے۔

براٹسلاوا حکومت کے مطابق مسیحی مہاجرین کا انضمام قدرے آسان ہے۔ گزشتہ برس اس مشرقی یورپی ملک نے عراق کے 149 مسیحیوں کو قبول کیا تھا۔ تاہم ان مہاجرین کو اس ملک کی عوام کی جانب سے انتہائی سرد رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت نے پناہ گزینوں کے انضمام کے لیے مقامی افراد سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے رضاکارانہ طور پر سامنے آئیں تاہم شدید احتجاج کے بعد حکومت کو اپنے اس منصوبے کو بھی ترک کرنا پڑ گیا۔ اسی طرح ہنگری کی حکومت بھی یورپ میں مہاجرین کے موجود بحران کو اس براعظم کی مسیحی اقدار کے لیے خطرہ قرار دیے چکی ہے۔

اشتہار