مسلمان آئمہ کی تربیت کا جرمن حکومتی منصوبہ | معاشرہ | DW | 21.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مسلمان آئمہ کی تربیت کا جرمن حکومتی منصوبہ

جرمن وزارت داخلہ نے اکیس نومبر سے مساجد میں نماز پڑھانے والے آئمہ کی خصوصی تربیت کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کو ایک مذہبی تعلیمی تنظیم نے مرتب کیا ہے اور اسے اب حکومتی سر پرستی حاصل ہو گئی ہے۔

جرمنی میں پہلے سے کئی مسلمان تنظیمیں اماموں کی تربیت کے پرگرام جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس تربیتی پروگرام پر عدم اطمینان پایا جاتا رہا ہے۔ اس یورپی ملک میں بیشتر مسلمان آئمین کا تعلق ترکی سے ہوتا ہے اور اس کی وجہ ایک بڑی ترک نژاد مسلم اقلیت ہے۔ ترک آئمہ ایک تنظیم ترک اسلامک یونین برائے مذہبی امور (DITIB) سے وابستہ ہوتے ہیں۔

دیتب مسلم تنظیم کے ساتھ نو سو مساجد منسلک ہیں۔ ان نو سو مساجد کے لیے منتخب کیے جانے والے آئمہ کی تربیت اور انتخاب پر ترک حکومت ہی اخراجات برداشت کرتی ہے۔ ان آئمین کو ترک زبان پر دسترس تو حاصل ہوتی ہے لیکن جرمن زبان سے وہ قدرے ناآشنا ہوتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ترکی سے آنے والے آئمہ انقرہ حکومت کے ساتھ غیر معمولی  وفاداری رکھتے ہیں۔

Imam Tüzer (DW)

جرمنی میں ترکی سے آئمین لانے کے لیے ایے تنظیم بھی قائم ہے

حالیہ کچھ برسوں کے دوران مسلم انتہا پسندی کے بڑھنے کے بعد سے جرمن حکومت مساجد کے اندر پھیلنے والے بنیاد پرستانہ مذہبی رجحانات کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں رہی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک خصوصی مالیاتی پیکج کو تشکیل دینا اور رقم مختص کرنا تھی۔ اب برلن حکومت ایک خصوصی پروگرام شروع کرنے پر بھی عمل کر رہی ہے۔

اس حکومتی  منصوبے کے حوالے سے ماحول دوست گرین پارٹی کی رکن پارلیمان فیلیس پولاٹ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس پروگرام کو شروع کرنے کے حوالے سے اُن کی سیاسی جماعت کئی برسوں سے مطالبہ کر رہی تھی اور اس سلسلے کا آغاز تاخیر سے ہو رہا ہے لیکن پھر بھی یہ بہتر اور احسن ہے۔

DITIB Zentralmoschee Köln-Ehrenfeld (DW/M. Odabasi)

جرمن شہر کولون کی خوبصورت اور بڑی جامع مسجد

یہ امر اہم ہے کہ جرمن حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا حق دستور کے تحت نہیں رکھتی۔ اس تناظر میں گرین پارٹی کی ایک رہنما نے بتایا کہ مسلمان آئمہ کی تربیت کے خصوصی پروگرام کو شروع کرنے کی جرمن وزارت داخلہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ پولاٹ کے مطابق پروگرام شروع کرتے ہوئے دستوری قدغن کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

جرمنی میں مسلمانوں کی کئی تنظیمیں ہیں۔ ان میں ایک نئی تنظیم سینٹرل کونسل برائے جرمن مسلم (ZMD) ہے۔ یہ تنظیم بھی آئمہ کی تربیت کے پروگرام میں شامل ہے۔ اس تنظیم کے چیئرمین ایمن مازیک نے آئمین کی تربیت کے پروگرام کو مثبت سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

Moschee Stuttgart Feuerbach Iman Gebet (picture-alliance/dpa/D. Laupold)

جرمن حکومت کی سرپرستی میں آئمین کی تربیت کا پروگرام شروع کیا گیا ہے

یہ نئی تنظیم جرمن ریاست زیریں سیکسنی میں مقیم ہے۔ اس صوبے کی وزارت ثقافت و سائنس بھی پروگرام میں عملی طور پر شریک ہے۔ اس وقت کئی جرمن شہروں (ٹوبیگن، میونسٹر، اوسنابروک، گیسن اور ارلاگن اہم ہیں) میں اسلامی مذہب کے خصوصی تعلیمی ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔

رواں برس اکتوبر میں جرمن دارالحکومت کی ہمبولٹ یونیورسٹی نے اسلامک مذہب کا ایک مرکز بھی قائم کر دیا ہے۔ حکومت نے کوشش کی ہے کہ ان اداروں میں اسلامی مذہبی تعلیم کا تعلق صرف نماز پڑھانے یا قرآن پڑھانے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی تعلیم بھی دینا ضروری ہے اور اس کا مقصد طلبا پر واضح کرنا ہے کہ مذہبی تعلیم اور عملی تربیت دو مختلف شعبے ہیں۔

جرمنی میں پینتالیس لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان میں تیس لاکھ ترک نژاد ہیں۔

زیڈا زیرڈار (عابد حسین)

DW.COM