مزید چھبیس افغان مہاجرین جرمنی بدر | حالات حاضرہ | DW | 10.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مزید چھبیس افغان مہاجرین جرمنی بدر

جرمنی بدر کیے گئے افغان مہاجرین کا ایک اور گروپ کابل پہنچ گیا ہے۔ کووڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے ایسے افراد کی ملک بدری کا عمل سست پڑ گیا تھا، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

Deutschland Freiburg - Afghane nimmt Teil am Gedenken der ermordeten Maria Ladenburger

جرمن شہر فرائی برگ میں ملک بدری کے خلاف مظاہرے میں افغان تارکین وطن احتجاج کرتے ہوئے، پوسٹر پر لکھا ہے کہ’ہم افغان ہیں، قاتل نہیں‘۔

افغانستان میں 'مہاجرین اور وطن واپسی‘ کی وزارت نے بتایا ہے کہ بدھ کے دن مزید چھبیس مہاجرین کا ایک گروپ جرمنی سے کابل پہنچ گیا ہے۔ اس وزارت کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ایک چارٹر طیارہ ان افغان مہاجرین کو لیے عالمی وقت کے مطابق صبح چھ بجکر پینتیس منٹ پر کابل کے ایک ہوائی اڈے پہنچا۔

سن دو ہزار سولہ کے بعد سے جرمنی سے واپس افغانستان روانہ کیے جانے والے ایسے مہاجرین کا یہ چھتیسواں گروپ تھا، جن کی پناہ کی درخواستیں رد ہو جانے کے بعد انہیں واپس وطن روانہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی، غیرقانونی مہاجرین کی ملک بدریوں میں شدید کمی

یوں اب تک جرمنی پہنچنے والے پناہ کے متلاشی مجموعی طور پر نو سو نواسی افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

جرمنی سے اس طرح وطن واپس روانہ کیے جانے کا یہ عمل انتہائی متنازعہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور ان افراد کے وطن واپس پہنچنے سے ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

امریکا اور طالبان کے مابین دوحہ امن ڈیل کے باوجود طالبان نے اپنے حملوں میں کمی نہیں کی ہے جبکہ امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کے بعد اس امن معاہدے پر بھی سوالیہ نشانات ابھر چکے ہیں۔ ساتھ ہی افغانستان میں دہشت گرد تنظیم ‘اسلامک اسٹیٹ‘ بھی فعال ہے، جو گاہے بگاہے شہریوں کو حملوں کو نشانہ بناتی رہتی ہے۔

دوسری طرف طالبان اور کابل حکومت کے مابین امن مذاکراتی عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ دوحہ امن ڈیل کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کی ایک بڑی تعداد کے انخلا کے بعد اس وسطی ایشیائی ملک میں فعال شدت پسند گروہ اپنے حملوں میں مزید تیزی لا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:جرمنی سے انیس پاکستانی ملک بدر، وبا کا خیال نہ رکھا گیا

گزشتہ نو دنوں کے دوران دارالحکومت کابل میں سولہ بم حملے کیے گئے، جن کی وجہ سے پورا کا پورا شہر متاثر ہوا ہے۔ یہ حملے اس مقام کے قریب بھی کیے گئے، جہاں افغان مہاجرین کا گروپ ایک خصوصی چارٹر طیارے کے ذریعے پہنچا ہے۔

اسی طرح کورونا کی عالمی وبا کے باعث بھی افغان حکومت کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس عالمی وبا اور تنازعات کی وجہ سے اس برس اٹھارہ ملین افغان شہریوں کو فوری امداد کی ضرورت ہو گی۔

ع ب / ک م / خبر رساں ادارے

DW.COM