مزید دس بھارتی دماغی بخار کا شکار، والدین برہم | صحت | DW | 19.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

مزید دس بھارتی دماغی بخار کا شکار، والدین برہم

مشرقی بھارتی ریاست بہار میں مزید دس بچے دماغی بخار کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔ اس ریاست میں اس بخار کی وجہ سے اموات کی تعداد اب 113 ہوگئی ہے۔ اس بخار کے تانے بانے 'لیچی‘سے جوڑے جا رہے ہیں۔ والدین بھی سراپا احتجاج ہیں۔

بھارتی ریاست بہار میں لوگ اس بخار جس کو 'ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے پھیلنے سے پریشان ہیں۔ اس کی وجہ سے مزید  10بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ابھی تک اس بخار سے 113 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم (Acute Encephalitis Syndrome) یعنی اے ای ایس(دماغی بخار )کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس میں کئی انفیکشن شامل ہوتے ہیں اور یہ بچوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ریاست بہار میں گزشتہ کئی دنوں سے 60 سے زیادہ بچے اس بخار میں مبتلا ہونے کے باعث زیر علاج ہیں۔ ان زیر علاج بچوں کی عمریں دس سال سے کم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مظفر پور سے ہے۔

بھارتی محکمہ صحت کہ افسر اشوک کمار سنگھ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے،''دس بچوں کا انتقال کل یعنی منگل کو ہوا ہے۔ ابھی تک 60 بچے ایسے ہیں جنہیں علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔‘‘ بھارتی میڈیا میں دکھائی گئی رپورٹوں کے مطابق درجنوں مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

متاثرہ بچوں کے والدین کی جانب حکومتی اقدامات کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ مظفر پور کے مرکزی ہسپتال کے باہر والدین کا کہنا تھا،''حکومت کی جانب سے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے انہیں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی سست روی کی وجہ سے بچوں کی اموات بڑھتی جارہی ہیں۔‘‘

نئی دہلی میں بھی بائیں بازو کی کئی سیاسی جماعتوں نے احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔  مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بہار کی ریاست بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن  کی رکن مریم دھوالے نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا، ''اینسیفیلائٹس سنڈروم ہر سال بہار میں حملہ آور ہوتا ہے لیکن مقامی حکومت کچھ نہیں کرتی اور اس بیماری سے صرف غریبوں کے بچے مر رہے ہیں۔‘‘

 اتر پردیش اور بہار دونوں ہی ریاستوں میں غذائی قلت بھی بہت ہی زیادہ ہے اور غذائی قلت کی وجہ سے ہی بچے ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

کیا اس بیماری کی وجہ لیچی ہے؟

ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم کی وجوہات پھل لیچی سے جوڑی جارہی ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ لیچی میں موجود بیکٹیریا اس بیماری کا موجب بن رہا ہے۔ اس بیماری کے باعث فالج، خون میں شکر کی مقدار کا بڑھنا اور تیز بخار جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔