مزارِ جناح پر نعرے بازی، کیپٹن صفدر گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مزارِ جناح پر نعرے بازی، کیپٹن صفدر گرفتار

کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگوانے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور اپوزیشن رہنما کیپٹن محمد صفدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کراچی میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے میں شرکت کے لیے اپنی اہلیہ مریم نواز کے ساتھ آئے کیپٹن صفدر کو پیر کی صبح ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں واقع مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد انہوں نے 'ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگوائے۔

نواز شریف خود فوج کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچے، عمران خان

جنرل باجوہ صاحب آپ کو جواب دینا پڑے گا، نواز شریف

اپنے شوہر کی گرفتاری کے حوالے سے مریم نواز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا، ''ہم سوئے ہوئے تھے، جب پولیس نے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر کيپٹن صفدر کو گرفتار کیا۔‘‘

معروف صحافی طلعت حسین نے ہوٹل کے کمرے کے باہر کی ایک مختصر ویڈیو بھی ٹوئٹ کی ہے، جس ميں دکھائی دیتا ہے کہ دروازہ طاقت کے ذریعے کھولا گیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے شپنگ علی زیدی نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق کيپٹن صفدر کی جانب سے مزار میں نعرے بازی کے بعد ایک شکایت درج کرائی گئی، جس میں شکایت کنندہ کا موقف تھا کہ انہوں نے کیپٹن صفدر کو نعرے بازی سے روکا تاہم وہ باز نہ آئے۔ اس شکایت کے مطابق، کيپٹن صفدر نے مزار جناح کی تکریم کو پامال کیا ہےکیوں کہ اس مقام پر قانونی طور پر سیاسی نعرے بازی کی ممانعت ہے۔

Pakistan Protestkundgebung gegen die Regierung in Gujranwala

سیاسی میدان میں مریم نواز اپنی جماعت کی جانب سے آگے آگے دکھائی دے رہی ہیں

اس معاملے پر مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اصل میں اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے اس مقدمے سے دوری اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اس گرفتاری کے ذریعے سارا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنا چاہتی ہے، تاکہ حکومت مخالف اتحاد میں دراڑیں پڑیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں اس گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اسے اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش سے تعبیر کیا ہے۔

سعید غنی کہتے ہیں، ''مزار قائد پر کیپٹن صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا لیکن جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔کیپٹن صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایات پر نہیں ہوئی۔ پولیس کا یہ اقدام PDM کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے کراچی میں ایک بڑے احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا۔ اس جلسے میں ایک مرتبہ پھر ملکی فوج پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے سابقہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم منتخب کرایا۔

یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کی نو جماعتوں نے مل کر گزشتہ ماہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دی تھی۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ تمام جماعتیں پاکستانی عوام کو بچانے اور تحفظ دینے کے لیے جمع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ''اگر حکومت کو پانچ برس مکمل کرنے دیے گئے، تو ملک تباہ ہو جائے گا۔‘‘

ملتے جلتے مندرجات