مرضی سے جنسی تعلق ریپ نہیں، بھارتی عدالت | معاشرہ | DW | 06.01.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مرضی سے جنسی تعلق ریپ نہیں، بھارتی عدالت

بھار ت کے ایک جج نے کہا ہے کہ مرضی سے قائم کیے گئے غیر ازدواجی تعلقات کو ریپ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات ’غیر اخلاقی‘ اور ’ہر مذہب‘ کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

نئی دہلی کے سیشن جج وریندر بھٹ نے یہ تبصرہ صرف شادی کے وعدے پر ہی جنسی تعلق قائم کر لینے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کیا ہے۔ اس مقدمے کی شکایت ایک خاتون نے درج کروا رکھی تھی۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ ملٹی نیشنل کمپنی کے ایک بھارتی ملازم نے ان سے متعدد مرتبہ یہ کہتے ہوئے ہم بستر ہوا کہ وہ اُس سے شادی کر لے گا۔

اس خاتون کے مطابق دونوں میں دوستی ایک چیٹ روم کے ذریعے ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شخص نے شادی نہیں کی لہٰذا شادی کے پہلے والے تعلقات کو ریپ قرار دیا جائے۔

بھارتی جج کا کہنا تھا کہ 29 سالہ بھارتی شخص کے فعل کو صرف اس وجہ سے ریپ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک بالغ، تعلیم یافتہ اور دفتر میں کام کرنے والی خاتون جنسی تعلق پر تیار ہو جاتی ہے تو اس نے اپنے آپ کو خود خطرے میں ڈالا ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون کو صرف شادی کے وعدے پر ہی جنسی تعلق قائم نہیں کر لینا چاہیے۔

اس مقدمے کی سماعت گزشتہ برس دسمبر میں ہوئی تھی تاہم جج کے تبصرے اب جا کر قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آئے ہیں۔

بھارت گزشتہ دو عشروں سے تیزی کے ساتھ اقتصادی ترقی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سی سماجی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں۔ تاہم ان تبدیلیوں کے باوجود غیر ازدواجی تعلقات کو سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

جج کا کہنا تھا کہ غیر ازدواجی تعلقات نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ہر مذہب کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ بھٹ ایک فاسٹ ٹریک عدالت کی صدارت کر رہے تھے، جو جنسی جرائم کا نشانہ بننے والی خواتین کے مقدمات نمٹانے کے لیے دہلی میں قائم کی گئی تھی۔