مراکش میں پہلی قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ مکمل، نتائج اتوار کو | حالات حاضرہ | DW | 26.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مراکش میں پہلی قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ مکمل، نتائج اتوار کو

مراکش میں جمعے کو پہلی قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ قوی امکان ہے کہ اعتدال پسند مذہبی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو زیادہ نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ انتخابی عمل میں لبرل اور سیکولر جماعتیں بھی شریک تھیں۔

default

مراکش کے شاہ محمد ششم کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی سیاسی اصلاحات کے بعد مرتب کیا جانے والا نیا دستور ایک ریفرنڈم کے ذریعے عوام نے بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ یہ دستوری ریفرنڈم اس برس جولائی میں منعقد کروایا گیا تھا۔ مبصرین کے خیال میں شاہ محمد نے لیبیا، تیونس اور مصر کی صورت حال پر چوکسی کا مظاہرہ کیا۔

وزارت داخلہ کے مطابق ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 45 فیصد سے زائد رہا۔ یہ گزشتہ الیکشن میں صرف 37 فیصد تھا۔ مراکش کی تاریخ میں سن 2002ء کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح پچاس فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ موجودہ وزیر داخلہ تائب شرکوئی نے ٹرن آؤٹ کے بارے میں تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں ریلیز کیں۔ ہفتے کو مکمل ہونے والے الیکشن کے نتائج کا اعلان اتوار کی شام تک کردیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کی کل نشستیں 395 ہیں۔ ان میں ساٹھ سیٹیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ انتخابات میں کل اکتیس پارٹیاں شریک ہیں۔سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی مقبول سیاسی جماعت فروری ٹوئنٹی (February 20) نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ سیاسی جماعت مزید سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتی ہے اور اس کے نزدیک نئے دستور میں جمہوری اصلاحات بہت کم کی گئی ہیں۔

نئے دستور کے تحت شاہ کے کچھ اختیارات اب پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ماضی کی طرح وزیر اعظم شاہ کے حکم پر انحصار نہیں کرے گا۔ نیا وزیر اعظم انتخابات جیتنے والی سیاسی پارٹی سے ہو گا۔ سیاسی پارٹی یقینی طور پر پارلیمنٹ کی اکثریتی پارٹی بھی ہو گی۔ شاہ بدستور ریاست کا سربراہ اور فوج کا سربراہ رہے گا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سفیروں کی تعیناتی بھی شاہ کی صوابدید پر ہو گی۔

مراکش وہ عرب ملک ہے جہاں عرب اسپرنگ کے تحت عوامی تحریک اٹھتے اٹھتے رہ گئی اور شاہ نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے سیاسی اصلاحات کو متعارف کروایا، گو اس اصلاحاتی عمل کو ابتدا کہا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار