مذہبی بیانیے موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک کے لیے اہم کیوں | مکالمہ | DW | 24.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

مذہبی بیانیے موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک کے لیے اہم کیوں

موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات دنیا بھر میں دیکھے جا رہے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی ایکو اسلام کانفرنس ماحول دوست مذہبی پیغامات کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق زیادہ مؤثر آگہی پھیلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:10

کراچی میں ’ایکو اسلام‘ کانفرنس کا انعقاد

پاکستان سمیت زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک میں عام طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کو مغربی دنیا کا موضوع سمجھا جاتا ہے۔ عوام میں اس اہم موضوع پر شاذ و نادر ہی گفتگو دیکھی جاتی ہے۔ دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رواں برس ستمبر میں 'فرائیڈیز فار فیوچر‘ مارچ میں بھی چند ہزار پاکستانی شہریوں نے ہی شرکت کی تھی۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کو این جی اوز اور امیر لوگوں کا موضوع سمجھے والے ایسے عام شہریوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور ان سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کی کمی کے باعث ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور پیدا کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو نے گزشتہ ماہ جکارتہ میں ایک 'ایکو اسلام‘ کانفرنس منعقد کرنے کے بعد کراچی میں بھی ایکو اسلام کانفرنس منعقد کی۔ تیئیس اور چوبیس نومبر کے روز منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد اسلام کے ماحول دوست پیغامات کو اجاگر کرنا تھا۔

'مذاہب ہمیشہ سے تحفظ ماحول پر زور دیتے رہے ہیں‘

ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے ایکو اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مباحث میں مذاہب کی شمولیت کی شدید ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد میں عام شہریوں تک رسائی ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو ایسا اثر و رسوخ حکومت اور میڈیا کو بھی میسر نہیں ہوتا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو یاد دلایا جائے کہ ان کا مذہب بھی تحفظ ماحول پر ہمیشہ سے زور دیتا رہا ہے۔‘‘

Love Humans - Love Nature Eco-Islam for peace Conference in Karachi Pakistan Presse

کراچی میں منعقدہ ایکو اسلام کانفرنس میں مذہبی اسکالرز اور سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی

ان کا مزید کہنا تھا، ''ہم بطور میڈیا آرگنائزیشن بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم لوگوں کو یہ نہیں بتانا چاہتے کہ انہیں کیا کرنا ہے، ہم صرف ایسے تصورات سامنے لا سکتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے ماحول کا تحفظ کر سکتے ہیں۔‘‘

اسلامی اسکالر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات بھی لوگوں کو ماحول دوست طرز زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق، ''اگر ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیں تو ہمیں تحفظ ماحول کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ ساتھ درختوں کا بھی خیال رکھیں۔‘‘

ایکو اسلام کانفرنس کے حوالے سے محسن نقوی کا کہنا تھا، ''کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ ماحولیات سے متعلق متنوع خیالات سن کر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، اس لیے اس قسم کے مباحث جاری رہنا چاہییں۔ جب تک عام لوگوں تک یہ پیغامات نہیں پہنچیں گے، تب تک حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔‘‘

پاکستان بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے لیے پانی کی کمی کے مسئلے کو دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ہی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لاہور میں سموگ کی شدت کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ لاہور کے ہزاروں شہری ناقص ہوا کے سبب کئی طرح کی بیماریوں کے شکار ہو سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ناقص حکومتی اقدامات کو سموگ کی بڑھتی ہوئی شدت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

Love Humans - Love Nature Eco-Islam for peace Conference in Karachi Pakistan Debarati Guha

ڈی ڈبلیو ایشیا کی سربراہ کے مطابق تیسری ایکو اسلام کانفرنس بنگلہ دیش میں ہو گی

صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے تحفظ ماحول مرتضیٰ وہاب نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مسئلے پر باقاعدہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا، ''پاکستان میں اس معاملے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے لیکن اب اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ہم نے کلائمیٹ چینج پالیسی منظور کی ہے، جس کا مقصد تحفظ ماحول کے لیے نجی اور سرکاری شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔ ہم نے پلاسٹک کے یکبارگی استعمال پر بھی پابندی عائد کی ہے۔‘‘

تحفظ ماحول کے لیے سرگرم پاکستانی کارکن توفیق پاشا کا کہنا تھا، ''حالیہ عرصے کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل نے عام لوگوں کی زندگیوں کو واضح طور پر متاثر کرنا شروع کیا ہے، جس کی وجہ سے حکام بھی اس جانب توجہ دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔‘‘

تاہم توفیق پاشا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں مسائل کے حل کے لیے صرف حکومتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ''ہمارے ملک کی آبادی بائیس کروڑ ہے۔ اگر ہر شخص ہر روز ایک قطرہ پانی بھی بچائے تو ہم ایک دن میں بہت سا پانی بچا سکتے ہیں۔‘‘

شامل شمس (ش ح / م م)

Audios and videos on the topic