محمد عامر کی پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی | کھیل | DW | 01.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

محمد عامر کی پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی

قومی کرکٹ ٹیم میں دوبارہ شامل کیے جانے کے اعلان کے بعد محمد عامر نے کہا ہے کہ وہ ناقدین کا جواب وکٹیں لے کر اور پیار سے دیں گے۔ قبل ازیں ان کو قومی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تئیس سالہ عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کے تقریباﹰ چار ماہ بعد ممکن ہو رہی ہے لیکن وہ ان ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچیز میں اسی صورت شرکت کر سکیں گے کہ نیوزی لینڈ ان کو ویزا جاری کر دے۔ محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سن 2011 میں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا تھا۔

محمد عامر کی قومی کرکٹ ٹیم میں ممکنہ واپسی پر گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان کے کئی قومی کھلاڑیوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی اور اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ نے محمد عامر کی موجودگی میں ملکی کرکٹ ٹیم کے ایک ٹریننگ کیمپ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے تادیبی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے ان دونوں کھلاڑیوں کو اپنا موقف بدلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس نئی پیش رفت کے بعد محمد عامر کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں پراعتماد ہوں اور زیادہ تر شائقین میری حمایت میں ہیں۔‘‘ عامر کا مزید کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ شائقین مجھے پسند کریں گے لیکن میں ان کے طعنوں اور سخت ریمارکس کے لیے بھی تیار ہوں اور ان کو پیار سے اور وکٹیں حاصل کر کے جواب دوں گا۔‘‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم پندرہ جنوری سے اپنے دورہء نیوزی لینڈ کا آغاز کرے گی، جس دوران تین ٹی ٹوئنٹی اور اتنے ہی ون ڈے میچ کھیلے جائیں گے۔ عامر کے لیے اب سب سے بڑی رکاوٹ اس دورے کے لیے نیوزی لینڈ کے ویزے کا حصول ہے کیوں کہ وہ ایک مجرم کے طور پر سزا یافتہ ہیں اور چھ ماہ تک جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔

اپنے ویزے کے بارے میں محمد عامر کا کہنا تھا، ’’میں پہلے بھی نیوزی لینڈ کا دورہ کر چکا ہوں، وہ اس کھیل سے محبت کرتے ہیں۔ وہ بہت دیکھ بھال اور محبت کرنے والے ہیں، میرا نہیں خیال کہ کوئی ناخوشگوار نتیجہ نکلے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے پسند کریں گے۔‘‘

قبل ازیں آج پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر ہارون رشید کا لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہی ٹیم کا انتخاب کرتی ہے۔

عامر کا کہنا تھا کہ وہ سب کے شکر گزار ہیں کہ انہیں دوسرا موقع فراہم کیا جا رہا ہے، ’’دوسرا چانس ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے کہ حکام اور شائقین نے مجھے دوسرا موقع فراہم کیا ہے۔‘‘

نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم میں واپس آنے والے دوسرے فاسٹ بولر عمر گل ہیں، جنہوں نے اپنا آخری میچ اپریل دو ہزار چودہ میں بنگلہ دیش میں کھیلا تھا۔

اشتہار