متحدہ عرب امارت کا پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کی کوششوں کا اعتراف | حالات حاضرہ | DW | 16.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

 متحدہ عرب امارت کا پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کی کوششوں کا اعتراف

متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات استوار کرنے میں ان کی مدد کر رہا ہے۔

امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے پہلی بار باضابطہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی ٹیبل تک لانے کے لیے ثالثي کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارت کار یوسف العتیب کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان صحت مند اور فعال رشتے استوار  کرنا ہے۔

ایک امریکی یونیورسٹی کے سیمینار میں امریکا کے سابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر کے ساتھ بات چيت کے دوران جب یوسف العتیب سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کا ملک بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر رشتوں کے لیے کسی طرح کی کوئي کوشش کر رہا ہے؟

اس سوال کے جواب انہوں نے کہا، "بالکل۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں بہترین قسم کے دوست نہ بن پائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دونوں میں کم از  کم فعال سطح کے رشتے قائم ہوں، جہاں دونوں سرگرم رہ کر ایک دوسرے سے بات چیت کر سکیں، جہاں دونوں میں مواصلاتی رابطہ ہو اور یہی ہمارا مقصد ہے۔" 

   انہوں نے  مزید کہا، "دو مختلف ملکوں میں جس سطح کا ہمارا اثر و رسوخ ہے وہاں ہم مدد گار ہونا چاہتے ہیں۔"  ان کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں سرحد پر جنگ بندی پر عمل ہو سکا ہے اور، "امید ہے کہ دونوں اپنے سفارت کار پھر سے بحال کر دیں گے اور صحت مند سطح کے تعلقات پھر سے قائم ہو سکیں گے۔" 

ویڈیو دیکھیے 04:32

پاک بھارت کشيدگی کی مختصر تاريخ

 تاہم یوسف العتیب نے اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنے کے لیے بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا، "آپ کو تو معلوم ہے، ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایک دوسرے کے پسندیدہ ملک بن جائیں گے، لیکن میرے خیال سے دنوں کے لیے یہ اہم کہ وہ ان میں صحت مند اور فعال قسم کے رشتے قائم ہو سکیں، اور یہی ہمارا مقصد بھی ہے۔" 

 متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی ان کوششوں کی تصدیق ان اطلاعات کے ایک روز بعد آئی ہے جس میں کہا گيا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے سرکردہ حکام دبئی میں بات چيت کے لیے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں تاکہ جموں و کشمیر میں عسکری کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔

ان کوششوں کے پیچھے کون ہے؟ اور مقصد کیا ہے؟

نئی دہلی میں سیاسی تجریہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے متحدہ عرب امارات ک سطح پر تنہا ثالثي کی کوششیں قطئی مؤثر نہیں ہوں گی اور اس کے پیچھے در اصل کچھ بڑی عالمی طاقتیں ہیں جو دبئی کا سہارا لے رہی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:48

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا آپریشن، پاکستان کا ردعمل

دہلی میں سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سنجے کپور نے ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں کہا، "سعودی عرب سمیت مشرقی وسطی کے تمام ملکوں کی نگاہیں ایران اور چین کے رشتوں پر مرکوز ہیں۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ بھارت ایران میں سرمایہ  کاری سے دور رہے۔ اس کے لیے پاکستان کو بھی ساتھ لینا ضروری ہے جو چین سے بہت قریب ہے۔ معاہدے ابراہیمی کا بھی یہی مقصد ہے،  تو اس بات چیت میں در پردہ بڑی عالمی طاقتیں سرگرم ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "اس کا مقصد یہاں پر امن کا قیام نہیں بلکہ چین اور ایران کو روکنا ہے اور اسی لیے بھارت کو بھی لالچ دلائی گئی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں عمران خان نے خود یہ بات کہی تھی کہ اگر پاکستان اور بھارت میں امن قائم ہو جاتا ہے تو انڈيا کو براہ راست سینٹرل ایشیا تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

بھارت پاکستان پر امریکی رپورٹ

لیکن دو روز قبل ہی امریکی خفیہ اداروں نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گيا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

 اس رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اگر پھر سے کوئی پر تشدد حملہ ہوتا ہے تو مودی کی قیادت میں بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت اس کا الزام پاکستان پر عائد کر تے ہوئے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گی، جس کے امکانات ہیں، اور اس سے دونوں میں جنگ کی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:16

کشمیر: کیا ایل او سی پر بسے گاؤں کے حالات بدل جائیں گے؟

سنجے کپور کا تاہم کہنا ہے کہ امریکا کی یہ رپورٹ لمبے عرصے کے لیے ہے اور فی الوقت کی صورت حال کا اس میں کوئی خاص ذکر نہیں ہے۔

جوہری طاقت رکھنے والے دنوں ملکوں کے درمیان سن 2019 سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جب کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں چالیس بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت نے ان حملوں کے لیے پاکستان سے سرگرم دہشت گردوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعہ پاکستانی علاقوں کو دہشت گردوں کے مرکز کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔

سن 2019 میں ہی پانچ اگست کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی جس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر گرفت کو مضبوط کرنا ہے۔ اس اقدام کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح گھٹا دی اور تجارتی تعلقات معطل کر دیے۔

لیکن دونوں ملکوں کی حکومتوں نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران بیک چینل ڈپلومیسی شروع کی اور اب تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے تعاون سے جنوری میں دبئی میں ہونے والی بات چیت میں بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (را) اور پاکستان کے انٹر سروسز انٹلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکارو ں نے حصہ لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ماضی میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، بالخصوص بحرانی صورت حال کے دوران، تاہم عوامی طور پر ان ملاقاتوں کا کبھی اعتراف نہیں کیا گیا۔

ویڈیو دیکھیے 06:23

نہ ہم یہاں کی رہیں نہ وہاں کی، کشمیر میں پاکستانی دلہنیں

DW.COM