متحدہ عرب امارات میں پہلی باقاعدہ یہودی عبادت گاہ | معاشرہ | DW | 22.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

متحدہ عرب امارات میں پہلی باقاعدہ یہودی عبادت گاہ

متحدہ عرب امارات میں پہلی مرتبہ باقاعدہ یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) تعمیر کی جائے گی۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس عبادت گاہ کی تعمیر کا کام اگلے برس شروع ہو گا اور یہ منصوبہ سن 2022 تک تکمیل پائے گا۔

سیناگوگ کی تعمیر ابوظہبی میں'ابراہمک فیملی ہاؤس‘ کمپلکس میں کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد مختلف ابراہمی مذاہب کی عبادت گاہوں کو ایک جگہ تعمیر کرنا ہے۔ یہ منصوبہ بھی سن 2022 تک تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ابوظہبی کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ اس کمپلیکس میں ایک چرچ اور ایک مسجد بھی تعمیر کی جائے گی۔

’ہاوس آف وَن‘ تین مذاہب کی عبادت گاہیں ایک عمارت میں

پِٹس برگ میں حملہ: گیارہ یہودی ہلاک، امریکی پرچم سرنگوں

رواں برس فروری میں پاپائے روم کے جزیرہ نما عرب کے پہلے دورے کے موقع پر اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مسلمانوں کی اکثریت والا ملک متحدہ عرب امارات اپنے آپ کو مختلف مذاہب کے لیے برداشت اور قبولیت کے تشخص کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ ابوظہبی حکومت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تمام ثقافتوں اور مذاہب کے لیے مکمل آزادی موجود ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ مقامی حکومت ملکی حکم رانوں پر تنقید یا ملکی پالیسیوں سے اختلاف کی اجازت نہیں دیتی اور انسانی حقوق کے درجنوں کارکنان مختلف اماراتی جیلوں میں قید ہیں۔

گو کہ یہ سیناگوگ متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی پہلی باقاعدہ عبادت گاہ ہو گا، مگر متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی ایک بہت قلیل تعداد آباد ہے، جو دبئی میں نجی طور پر ایک مکان کو اپنی عبادات کے لیے استعمال میں لاتی ہے۔ غیرمسلموں کے لیے تاہم اس وقت چرچوں کے علاوہ ایک ہندو مندر اور سکھوں کا ایک گردوارا تعمیر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں زیادہ تر غیرملکی ملازمت پیشہ ہیں کرتے ہیں اور ان غیرملکیوں میں سب سے بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے۔ ابوظہبی میں قائم بھارتی سفارت خانے کے مطابق اس وہ متحدہ عرب امارات میں بسنے والے بھارتی شہریوں کی تعداد دو اعشاریہ چھ فیصد ہے، جو اس ملک کی مجموعی آبادی کا 30 فیصد بنتی ہے۔

گو کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، تاہم متعدد اسرائیلی سیاست دان مختلف بین الاقوامی تقاریب میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں۔

DW.COM