مارین لے پین پر متنازعہ فلم، کیا ووٹرز کی رائے متاثر ہو گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مارین لے پین پر متنازعہ فلم، کیا ووٹرز کی رائے متاثر ہو گی؟

انتہائی دائیں بازو کی فرانسیسی سیاستدان مارین لے پین کی عوامی مقبولیت اور آئندہ صدارتی انتخابات میں ممکنہ کامیابی کو روکنے کی کئی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ کیا ان پر بننے والی ایک تازہ فلم اس حوالے سے کوئی فرق ڈال سکے گی؟

فرانس میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران انتہائی دائیں بازو کی سیاستدان مارین لے پین کی نیشنل فرنٹ کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس عوامیت پسند خاتون سیاستدان پر فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے، نفرت انگیز بیانات پر تحقیقات کی گئیں اور اعتدال پسند سیاستدانوں نے اسی طرح کے کئی الزامات عائد کیے۔ تاہم وہ اپنی صدارتی مہم میں کافی حد تک کامیاب نظر آ رہی ہیں۔

قدامت پسند فرانسیسی خاتون سیاست دان کی صدارتی الیکشن کی مہم

’جاگ یورپ جاگ!‘، انتہائی دائیں بازو کی فرانسیسی لیڈر لے پین

دنیا بھر میں سیاسی پاپولزم بہت شدید مسئلہ، ہیومن رائٹس واچ

اب مارین لے پین پر بنائی گئی ایک انتہائی متنازعہ فلم ملکی الیکشن سے نو ہفتے قبل نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ سیاسی ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ فلم فرانسیسی ووٹرز کی رائے بدلنے میں کامیاب ہو سکے گی؟ Chez Nous (یہ ہمارا ملک ہے) نامی اس فلم کا پریمیئر بدھ کے دن فرانسیسی سینما گھروں میں ہو رہا ہے۔ اس فلم میں ایک نرس کے سیاسی کیریئر کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو علاقائی انتخابات میں ایک انتہائی دائیں بازو کی سیاسی پارٹی ’پیٹرایٹک بلاک‘ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑتی ہے۔

اس فلم میں کے پلاٹ میں یہ پیغام پنہاں ہے کہ اینٹی امیگرینٹس اور یورپی یونین مخالفین انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں سے یورپ کو کس قدر شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے کئی سیاستدان گزشتہ کئی برسوں سے خود پر لگے ایسے الزامات کو دور کرنے کی کوشش میں بھی ہیں کہ وہ نسل پرست اور یہودی مخالف نہیں ہیں۔

فلم Chez Nous کے ڈائریکٹر لوکاس بیلواکس نے میڈیا سے گفتگو میں اس فلم کی کہانی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے لیے یہ فلم بنائی ہے، جو موجودہ سیاسی حالات سے ناخوش ہیں۔ بیلجیم کے فلمساز لوکاس نے مزید کہا، ’’میں چاہتا ہوں کہ ووٹرز یہ سمجھیں کہ جب وہ (مارین لے پین کی سیاسی پارٹی) نیشنل فرنٹ کو ووٹ دیں گے تو دراصل وہ کس نظریے کی حمایت کر رہے ہوں گے۔‘‘

مارین لے پین کے قریبی ساتھی اور مشیر فلورین فلپوٹ نے اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے، ’’ہمیں اس فلم سے خوش ہونا چاہیے کیونکہ میرے خیال میں یہ فلم ہمارے پیغام کو پھیلائے گی۔‘‘ تاہم انہوں نے اس فلم کو ملک کےغریب طبقے کی ’ہتک‘ کے مترادف بھی قرار دیا ہے۔ لے پین کی پارٹی نے اس فلم کو ایک پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ دراصل اس منصوبے سے ووٹرز کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ فلم شمالی فرانس کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن کی ایک ایسی سنگل ماں کی زندگی پر مبنی ہے، جو اپنے دو بچوں کی کفالت کے علاوہ اپنے والد کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے۔ یہ کردار معروف یورپی اداکارہ ایملے ڈیکونے نے نبھایا ہے۔ فلم ڈائریکٹر لوکاس نے البتہ واضح کیا ہے کہ اس فلم میں کسی کو مشورہ نہیں دیا گیا کہ انہوں نے ووٹ کس کو ڈالنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلم دراصل ایک سروے ہے کہ نیشنل فرنٹ کیا ہے جبکہ اس فلم کی نوّے فیصد کہانی حقائق پر مبنی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات