مارب کا دفاع کمزور ہو چکا ہے، یمنی حکومتی اہلکار | حالات حاضرہ | DW | 19.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مارب کا دفاع کمزور ہو چکا ہے، یمنی حکومتی اہلکار

یمن می‍ں فعال ایران نواز حوثی باغیوں نے مارب شہر کی جانب کامیاب عسکری پیش قدمی کی ہے۔ قبل ازیں ان باغیوں نے حکمت عملی کے حوالے سے اہم تصور کی جانے والے پہاڑی علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک حکومتی عہدیدار کی شناخت مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ حوثی باغیوں نے کوہ ہلان پر قبضہ کر لیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس لڑائی میں اطراف کے درجنوں سپاہی مارے گئے ہیں۔

اس پہاڑ سے مارب کی طرف پیشقدمی ایک آسان مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ شیعہ باغی گزشتہ ایک ماہ سے مارب کو کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: حوثی باغیوں کا سعودی عرب کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ

حوثی باغی اور بین الاقوامی تسلیم یافتہ یمنی حکومت کی افواج سن دو ہزار چودہ سے عسکری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ایک اور حکومتی اہلکار نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ مارب کا باغیوں کے کنٹرول میں جانے کا خطرہ سنگین ہو چکا ہے۔

اس  اہلکار کے مطابق کوہ ہلان پر شکست نے اس شہر کو دفاع کمزور کر بنا دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مارب شہر پر باغیوں کا قبضہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا کیونکہ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ مزید آگے بڑھنے کے قابل ہو جائیں گے۔

سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عسکری اتحاد نے یمنی حکومت کی مدد کی خاطر حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی تاہم تاحال یہ عسکری اتحاد مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:20

فاقہ کشی کا شکار یمنی بچے

دوسری طرف بین الاقوامی برداری کی کوشش ہے کہ یمنی بحران کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ اس حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:کیا یمن میں جنگ تیل کے آخری قطرے تک جاری رہے گی؟

یمنی باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کسی بھی ڈیل سے قبل سعودی عرب کو یمن کی ناکہ بندی ختم کرنا ہو گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کا بحران دنیا کا سب سے بدترین انسانی المیہ بن چکا ہے۔

امریکا میں جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد نئی امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کی نئی کوششیں شروع کرے۔ اس حوالے سے ابتدائی منصوبہ بندی شروع کی جا چکی ہے۔ 

ع ب / ع س / خبر رساں ادارے

DW.COM