مادری زبانوں کا عالمی دن اور پاکستان میں دو روزہ ادبی میلہ | حالات حاضرہ | DW | 21.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مادری زبانوں کا عالمی دن اور پاکستان میں دو روزہ ادبی میلہ

آج 21 فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کا دو روزہ ادبی میلہ بھی آج اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

اس میلے کو ’ہماری زبانیں، ہماری پہچان‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ہفتہ 20 فروری کی صبح شروع ہونے والے اس لٹریچر فیسٹیول کا مقصد پاکستان میں بولی جانے والی درجنوں مادری زبانوں کا تحفظ اور ان کی ترویج ہے۔ اس دو روزہ میلے کا اہتمام انڈس کلچرل فورم، لوک ورثہ اور ایس پی او نامی ایک غیر سرکاری سماجی تنظیم نے مشترکہ طور پر کیا۔

اس فیسٹیول کی زیادہ تر کارروائی اردو زبان میں ہو رہی ہے، جو پاکستان کی قومی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ آبادی کے ایک بڑے حصے کی مادری زبان بھی ہے۔ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے استقبالیہ خطاب لوک ورثہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فوزیہ سعید نے کیا جبکہ کلیدی خطاب معروف ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق رحمان کا تھا۔

ارتقائی عمل

ڈاکٹر فوزیہ سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ قدیم مادری زبانوں کا جدید زبانوں تلے دب جانا عالمی ارتقائی عمل کے لحاظ سے ایک قدرتی بات ہے لیکن اس کے نتیجے میں قدیم علوم و ثقافت اور مادری زبانوں کی میراث پر انتہائی منفی اثر بھی پڑا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ قدیم علوم اور مادری زبانوں کو اگلی نسل تک اس طرح منتقل کیا جائے کہ وہ ان کے لیے بھر پور دلچسپی کا باعث بنیں۔ لیکن یہ کام صرف مربوط اجتماعی کوششوں کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ریاستی اور عوامی کاوشوں کے ساتھ ساتھ فلم، ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا تک کا سہارا بھی لیا جانا چاہیے۔‘‘

اسلام آباد میں مادری زبانوں کے ادب اور ثقافت کا یہ دو روزہ میلہ آج اتوار21 فروری کی شام ایک محفل موسیقی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گا

اسلام آباد میں مادری زبانوں کے ادب اور ثقافت کا یہ دو روزہ میلہ آج اتوار21 فروری کی شام ایک محفل موسیقی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گا

اس دو روزہ میلے کی مہمان خصوصی سندھ کی معروف ڈرامہ نگار نورالہدیٰ شاہ تھیں۔ انہوں نے مادری زبانوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہماری حکومتی پالیسیاں کبھی مادری زبانوں کی بقا کے لیے بنائی ہی نہیں گئیں۔ حالت یہ ہے کہ حاکموں کو سلام کرنے کی خاطر مادری زبانوں کو پیچھے دھکیلا جاتا رہا ہے۔‘‘

دہشت گردی کے خلاف لسانی ہتھیار

سندھی زبان کے معروف مصنف قاسم بوگیو نے مادری زبانوں کے لوک ادب سے متعلق ایک نشست سے مرکزی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم و ادب، شاعری اور ثقافت کو دہشت گردی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ’’دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ادب و ثقافت سے بڑا ہتھیار کوئی نہیں۔ ادب اور شاعری کے کردار کا عملی مظاہرہ یہ ادبی میلہ بھی ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی ستر کے قریب ماں بولیاں اس ملک میں ایک ایسے گلدستے کی مانند ہیں، جس میں بیسیوں رنگا رنگ پھول ایک ساتھ موجود ہیں۔‘‘

وفاقی دارالحکومت میں لوک ورثہ کے ادارے میں جاری اس ادبی میلے میں ملک بھر سے پندرہ سے زائد مادری زبانوں کے ایک سو پچاس سے زائد ادیب، شاعر اور سرگرم ثقافتی شخصیات حصہ لے رہی ہیں۔ اس طرح انہیں ان مادری زبانوں کے تنوع کو قریب سے دیکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کا بہت منفرد موقع میسر آیا ہے۔

زبانیں زندہ کیسے رہتی ہیں؟

معروف ماہر لسانیات ڈاکٹرطارق رحمان نے میلے کے افتتاحی اجلاس سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی زبان کے بولنے والے خود اپنی مادری زبان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کیا وہ اپنی زبان کو خود اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ رہ سکے؟ کیا وہ زبان ریڈیو اور ٹی وی میں استعمال ہو رہی ہے؟ ڈاکٹر طارق رحمان نے کہا کہ اگر کسی مادری زبان کے پڑھنے سے لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی، تو پھر والدین اپنے بچوں کو زیادہ تر صرف وہی زبان پڑھانا چاہیں گے، جو ان کے بچوں کو ملازمتیں دلوا سکے: ’’یہ طرز فکر بھی مادری زبانوں کو درپیش شدید خطرات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی لیے چھوٹی زبانیں معدوم ہو جانے کے خطرات شدید تر ہو چکے ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی زبانوں میں کوئی تحریری مواد موجود ہی نہیں اور وہ بس سینہ بسینہ چلی آ رہی ہیں۔ ایسی چھوٹی ماں بولیوں کی بھرپور ترویج کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ شعبوں میں عالمگیریت کے باعث بھی بیشتر چھوٹی مادری زبانیں یا تو اضافی خطرات کا شکار ہیں یا ناپید ہو چکی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر فوزیہ سعید اور ڈاکٹر قاسم بوگیو

ڈاکٹر فوزیہ سعید اور ڈاکٹر قاسم بوگیو

لوک ورثہ میں اس ادبی میلے کے پہلے روز پاکستان میں بولی جانے والی مادری زبانوں کے ادب و ثقافت سے متعلقہ موضوعات پر متعدد سیمینارز اور مباحثوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ان سے جن معروف ادبی اور ثقافتی شخصیات نے خطاب کیا، ان میں احمد سلیم، نصرت زہرہ، ارشد وحید، نگار نذر، عرفان عرفی، طاہر مہدی، مظہر عارف، حارث خلیق، اجمل کمال اورعثمان قاضی بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس ادبی میلے میں مادری زبانوں میں شائع ہونے والی متعدد نئی کتابوں کی تقریبات رونمائی، ایک مشاعرے، محفل موسیقی، فنون لطیفہ، کتابوں کی نمائش اور کلچرل اسٹالز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

زبانوں کا مستقبل بچوں کے ذریعے

اس ادبی میلے میں جہاں بڑوں کے لیے بہت کچھ ہے، وہیں پر بچوں کی خصوصی دلچسپی کا سامان بھی موجود ہے۔ بچوں کے لیے نمایاں سرگرمیوں میں کارٹونسٹ اور رائٹر نگار نذر کے ساتھ اجتماعی مصروفیات پر مبنی سیشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں مادری زبانوں میں کہانیاں سنائی جا رہی ہیں جبکہ پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی موبائل لائبریری کے ذریعے شوقِ مطالعہ کی ترویج کی کاوش بھی کی گئی ہے۔

ماہرین لسانیات کے مطابق پاکستان کے مختلف خطوں میں چھوٹی بڑی نسلی یا علاقائی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے افراد مجموعی طور پر 74 مختلف لیکن بہت متنوع مادری زبانیں بولتے ہیں، جن میں سے کافی یا بالکل کوئی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے چوبیس ماں بولیاں ناپید ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اسلام آباد میں مادری زبانوں کے ادب اور ثقافت کا یہ دو روزہ میلہ آج اتوار21 فروری کی شام ایک محفل موسیقی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

اشتہار