ماحولیاتی آلودگی کے مونگے کی چٹانوں پر منفی اثرات | سائنس اور ماحول | DW | 23.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی آلودگی کے مونگے کی چٹانوں پر منفی اثرات

آسٹریلیا سمیت کئی دیگر ممالک میں ماحولیاتی آلودگی کے سبب سمندری ایکو سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سیشیلز بھی ایک ایسا ہی جزیرہ ہے جہاں مونگے کی چٹانوں کو تباہی کا سامنا ہے۔

بحر ہند کے جزیرے سیشیلز کو استوائی جنت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک سو پندرہ جزیروں پر مشتمل ہے، جو ساڑھے چار سو مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ رکھتے ہیں۔ یہ جزیرہ مجموعی طور پر 1.3 مربع کلومیٹر کی سمندری حدود میں بکھرے ہوئے ہیں۔

سیشیلز دنیا کے مختلف ملکوں کے سیاحوں کا ایک پسندیدہ مقام تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا دارالحکومت وکٹوریہ ہے۔ سیشیلز کے قدرتی مناظر بے مثال قرار دیے جاتے ہیں۔ اس جزیرے کو ماحولیاتی تبدیلیوں کو سامنا ہے۔ سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہٴ حرارت کی وجہ سے کورال یا مونگے کی چٹانیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں۔

اس جزیرے سے تعلق رکھنے والی سمندری حیات کی سائنسدان سیلوانا انتات کہتی ہیں کہ سمندر کا درجہٴ حرارت بڑھ گیا ہے اور اس نے سیشیلز کے قریبی سمندری علاقے کی کورال یا مونگے کی چٹانوں کو متاثر کیا ہے،'' ان میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہے جو انجام کار ان چٹانوں کی مکمل تباہی پر نکلے گی۔‘‘

سمندری درجہٴ حرارت میں اضافے نے سیشیلز کے ماہی گیری اور سیاحت کے منفرد زیر سمندر نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مونگے کی چٹانیں درجہٴ حرارت میں تبدیلی سے کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتی ہیں۔ سیشیلز کو سمندری حیات کا ایک گڑھ  قرار دیا جاتا ہے اور یہاں کے سمندری گھونگوں سے لے کر وہیل مچھلیاں تک ٹمپریچر میں اضافے سے متاثر ہیں اور خاص طور پر ساحل کے قریب مونگے کی چٹانیں زیادہ خطرے میں ہیں۔

Sylvana Antat Seychelles national park 2019

سیشیلز حکومتی انتطام کے تناظر میں مونگے کی چٹانوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا سلسلہ شروع ہے

اب سیشیلز کی حکومت نے اگلے برسوں میں ایسی ایک تہائی چٹانوں کے تحفظ کو اہم قرار دے دیا ہے، اس منصوبے کو سیشیلز سمندری توسیعی پلان کا نام دیا گیا ہے۔ اسےسیشیلز کے ماحول دوستوں نے سمندری ایکو سسٹم کے سروے اور تفصیلات جمع کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اس حکومتی انتطام کے تناظر میں سیلوانا انتات نے بتایا کہ مونگے کی چٹانوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی غرض سے غوطہ خوری کی سرگرمیوں شروع کر دی گئی ہیں تا کہ سیشیلز کے محفوظ زیر سمندر علاقے کے انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایسی ہی صورت حال بحر الکاہل کے مختلف چھوٹے بڑے جزائر کی بھی ہے۔ اسی سمندر کے مارشل جزائر کی حکومت نے نشیبی علاقوں میں ماحولیاتی بحران کی صورت حال پیدا ہونے کا بتایا ہے۔ مارشل جزائر کے کم گہرائی والے سمندری علاقے کی مونگے کی چٹانیں بھی شدید تباہی سے دوچار ہیں۔ آسٹریلیا کی کورال چٹانوں کی کئی تہییں ماحولیاتی آلودگی کا سامنا کر رہی ہیں۔

 ع ح ⁄ ع ا (ڈی پی اے)

DW.COM