لیبین نیشنل آرمی کے خلیفہ حفتر نے ترکی کو اپنا دشمن قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 30.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبین نیشنل آرمی کے خلیفہ حفتر نے ترکی کو اپنا دشمن قرار دے دیا

لیبین نیشنل آرمی کے سربراہ اور باغی جرنیل خلیفہ حفتر نے ترکی کو اپنا دشمن قرار دے دیا ہے۔ حفتر نے حکم دیا ہے کہ تمام ترک باشندے گرفتار کر لیے جائیں اور ترکی اور لیبیا کے مابین فضائی اور بحری آمد و رفت بھی روک دی جائے۔

باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی ملیشیا مشرقی لیبیا کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہے

باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی ملیشیا مشرقی لیبیا کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہے

لیبیا میں کئی برسوں سے جاری اقتدار کی جنگ اور مسلسل بدامنی کے ماحول میں باغی جنرل خلیفہ حفتر کو خانہ جنگی کے مرکزی فریقین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ان کی لیبین نیشنل آرمی کہلانے والی ملیشیا کو بہت زیادہ عسکری طاقت حاصل ہے اور ملک کے کئی علاقے اس کے قبضے میں ہیں۔ اب لیبین نیشنل آرمی یا ایل این اے کے اس سربراہ نے الزام لگایا ہے کہ ترکی لیبیا میں حفتر کے سیاسی مخالفین کی حمایت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقرہ حکومت کو اس کی موجودہ 'سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبو رکرنے کے لیے‘ حفتر کا موقف شدید تر ہو گیا ہے۔

تمام ترک باشندوں کی گرفتاری کا حکم

خلیفہ حفتر کی فورسز کے ترجمان احمد المسماری کے مطابق ایل این اے کے سربراہ نے حکم دے دیا ہے کہ لیبیا کی سمندری حدود میں موجود ترک بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ترکی کے مزید کسی بھی بحری جہاز کو لیبیا کی سمندری حدود میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے اور دونوں ممالک کے مابین سمندری کے علاوہ تمام فضائی رابطے بھی منقطع کر دیے جائیں۔ المسماری کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق ترکی اور لیبیا کے مابین ہوائی جہازوں کی تجارتی پروازوں پر بھی ہو گا۔

Libyen Armeechef Khalifa Hifter

خلیفہ حفتر لیبیا میں ماضی کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کے دور میں ملکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر تھے

لیبین نیشنل آرمی کے ترجمان کے مطابق خلیفہ حفتر نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اب تمام ترک بحری اور ہوائی جہاز اس ملیشیا کے لیے ایسے اہداف ہوں گے، جنہیں دشمن سمجھ کر نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ لیبیا میں ہر قسم کی ترک تنصیبات اور اداروں کو بھی حفتر کے دستوں کے دشمن سمجھا جائے گا۔ مزید یہ کہ لیبیا میں اس وقت جتنے بھی ترک شہری مقیم ہیں، ان کو بھی آئندہ گرفتار کر لیا جائے گا۔

لیبیا کے تنازعے میں مزید شدت یقینی

مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق بدامنی کے شکار لیبیا میں خلیفہ حفتر کا یہ فیصلہ اس شمالی افریقی ملک میں پہلے سے پائے جانے والے خونریز تنازعے میں یقینی طور پر مزید شدت کا سبب بنے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی کا شمار ان متعدد مغربی ممالک، نیٹو کی رکن ریاستوں اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں ہوتا ہے، جو لیبیا میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وزیر اعظم السراج کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور یہ بات خلیفہ حفتر کے لیے قابل قبول نہیں۔

اسی پس منظر میں لیبین نیشنل آرمی کے ترجمان نے حفتر کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ترکی 'لیبیا کے داخلی امور میں شرمناک مداخلت‘ کر رہا ہے۔ خلیفہ حفتر لیبیا میں ماضی کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کے دور میں ملکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر تھے اور ان کی مسلح ملیشیا کے ارکان زیادہ تر مشرقی لیبیا میں کئی علاقوں پر قابض ہیں۔

اس کے علاوہ اسی سال اپریل میں حفتر کی ملیشیا نے السراج کی حکومت کے عسکری مخالفین کے ساتھ مل کر طرابلس پر قبضے کے لیے بڑی کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔

بن غازی ایئر پورٹ سے پروازیں بند

لیبین نیشنل آرمی کے سربراہ خلیفہ حفتر کے ترکی کو اب اپنا دشمن قرار دے دینے کے تازہ فیصلے کے بعد بن غازی شہر میں قائم ہوائی اڈے پر حفتر کے اس حکم نامے پر عمل درآمد شروع بھی کر دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ بن غازی شہر کا ہوائی اڈہ حفتر کی ملیشیا ہی کے قبضے میں ہے۔

اس ایئر پورٹ سے تجارتی پروازوں کے نگران اعلیٰ ترین اہلکار اسامہ منصور نے بتایا کہ وہاں سے ترکی کے لیے تمام مسافر پروازیں روک دی گئی ہیں۔ لیبیا کے شہر بن غازی سے اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل روزانہ تین مسافر پروازیں ترکی کے شہر استنبول کے لیے روانہ ہوتی تھیں۔

م م / ع ح / ڈی پی اے، اے ایف پی، اے پی

ویڈیو دیکھیے 02:54

لیبیا کے عوام معمول کی زندگی کے خواہاں

DW.COM

Audios and videos on the topic